سیاسی رنجش کی بناء پر اپوزیشن لیڈروں کی سیکورٹی واپس لی گئی ہے:مہیش تپاسے

ممبئی: مہاراشٹر میں تین ماہ قبل غیرآئینی طور پراقتدار کی تبدیلی ہوئی تھی اوراس تعلق سے کیس عدالت میں ابھی زیر التوا ہے، لیکن وزیر اعلیٰ نے تمام اپوزیشن لیڈروں کی سیکورٹی واپس لے لی۔ریاستی حکومت کا یہ اقدام صرف سیاسی رنجش کے تحت ہے۔ یہ سنگین الزام آج یہاں این سی پی کے ریاستی چیف ترجمان مہیش تپاسے نے عائد کیا ہے۔

تپاسے نے کہا کہ این سی پی سڑکوں پر اترکر شندے وفڈنویس حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف آوازبلند کررہی ہے جس کی وجہ سے این سی پی کے ریاستی صدر وسابق وزیرآبپاشی جینت پاٹل واین سی پی کے سینئر لیڈر چھگن بھجبل کی سیکوریٹی واپس لے لی گئی۔ اس کے پیچھے ایک سیاسی سازش ہے۔مہیش تپاسے نے کہاکہ ریاست میں سرمایہ کاری، پروجیکٹ، روزگار، کسانوں کی خودکشی جیسے کئی مسائل پر ناکام شندے حکومت اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔لیکن اگر حکومت یہ سوچتی ہے کہ سیکوریٹی واپس لینے کے خوف سے این سی پی خاموش بیٹھ جائے گی تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ این سی پی حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتی تھی اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ بھلے ہی حکومت نے سیکوریٹی واپس لے لی ہے، مگر این سی پی کے لیڈران وکارکنان مزید طاقت کے ساتھ حکومت کے خلاف میدان میں اتریں گے۔تپاسے نے کہا کہ 4 اور 5 نومبر کو شرڈی میں ہونے والے این سی پی کیمپ میں حکومت کو گھیرنے کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading