مہاراشٹر کی ٹرپل انجن سرکار مجرموں کے سامنے بے بس، بدلاپور واقعے کی این سی پی-ایس پی نے کی سخت مذمت
ممبئی: مہاراشٹر کی ٹرپل انجن سرکار مجرموں کے سامنے بے بس ہو چکی ہے اور مجرم بے خوف ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست میں اس طرح کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ بدلاپور میں پیش آنے والے واقعے کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں اور اس معاملے میں فوری طور پر سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ بات این سی پی-ایس پی کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
جینت پاٹل نے کہا کہ بدلاپور میں چھوٹی بچیوں کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا ہے وہ انتہائی افسوسناک اور سخت مشتعل کرنے والا ہے۔ میں اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ اس وقت ریاست میں خواتین کی حفاظت کا مسئلہ انتہائی سنگین ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہم دہلی اور نوئیڈا جیسے علاقوں کو خواتین پر مظالم کے حوالے سے بدنام کہتے تھے لیکن اب مہاراشٹر کی حالت بھی ویسی ہی ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت ہماری بہنوں اور بیٹیوں کی حفاظت کے لیے کیا کر رہی ہے؟ ریاست کا محکمہ داخلہ خاموش کیوں ہے؟ کیا اسکیمیں لانا اور پیسے بانٹنا ہی حکومت کا فرض ہے؟ جینت پاٹل نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ کے اپنے ضلع میں بچیاں محفوظ نہیں ہیں تو ریاست کے دوسرے علاقوں میں کیسے محفوظ رہ سکتی ہیں؟
این سی پی- ایس پی کے ریاستی صدر نے مزید کہا کہ مہاراشٹر میں لا اینڈ آرڈر کی حالت تباہ ہو چکی ہے۔ کسی کو بھی قانون کا خوف نہیں رہا۔ مجرم یہ سوچنے لگے ہیں کہ ہم کوئی بھی جرم کرکے آسانی سے بچ نکلیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بدلاپور میں حکومت کے خلاف لوگوں کا غصہ احتجاج کی صورت میں باہر آیا ہے۔ بدلاپور کے اس واقعے پر پورے مہاراشٹر میں مذمت کی جا رہی ہے۔ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پولیس اور اسکول کی کارکردگی پر فوری کارروائی کی جائے۔
جینت پاٹل نے کہا کہ بدلاپور واقعے میں دو چار پولیس افسران کو معطل کرنے اور اسکول کے خلاف کارروائی کرنے سے ہمیں نہیں لگتا کہ انہیں سزا ملی ہے۔ پولیس افسران کو معطل کرنا اور اسکول کے خلاف کارروائی کرنا حکومت کا احتجاج کرنے والوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہے۔ ہمارا کہنا ہے کہ اس معاملے میں پولیس کی جانب سے کی گئی کسی بھی کارروائی پر بھی جواب طلب کیا جانا چاہیے۔
جینت پاٹل نے کہا کہ مہاراشٹر میں خواتین کی حفاظت ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ناگپور میں پولیس اسٹیشن میں پولیس اہلکار جوا کھیلتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ جب نائب وزیر اعلیٰ کے شہر میں پولیس کی یہ حالت ہے تو پھر مہاراشٹر میں خواتین کی حفاظت کے لیے، انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے اور خواتین کے خلاف ہونے والے مظالم کو روکنے کرنے کے لیے ریاست کے دیگر شہروں کی پولیس کا کیا رویہ ہوگا؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ جینت پاٹل نے کہا کہ مہاراشٹر میں حقیقت میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہ حکومت خواتین کی حفاظت میں ناکام ہو رہی ہے۔
