NCP Urdu News 2 Nov 25

مہا یوتی کا اتحاد برقرار رہے گا،حقائق کو مسخ کرنے والی رپورٹیں گمراہ کن

مہاوکاس اگاڑی کا ’سچائی مورچہ‘ دراصل ’جھوٹ کا جلوس‘ تھا، راج ٹھاکرے کے اعداد و شمار ادھورے اور گمراہ کن: آنند پرانجپے

ممبئی: مہاراشٹر میں جاری سیاسی ہلچل کے درمیان این سی پی کے ترجمان آنند پرانجے نے کہا ہے کہ این سی پی ایک ذمہ دار اتحادی پارٹی ہے اور آنے والے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی، مہا یوتی اتحاد کے بینر تلے ہی میدان میں اترنا چاہتی ہے۔ وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس، نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار اور نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے، تینوں کی مشترکہ کوشش یہی ہے کہ اتحاد برقرار رکھا جائے تاکہ بلدیاتی انتخابات میں اتحاد مضبوطی کے ساتھ عوام کے سامنے جائے۔

پرانجپے نے کہا کہ جہاں اتحاد ممکن نہیں ہوگا، وہاں اگر مجبوری میں آزادانہ مقابلہ کرنا پڑا تو بھی کسی طرح کی تلخی یا الزام تراشی سے گریز کیا جائے گا۔ اتحاد کی قیادت نے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ اختلافات کو دشمنی میں نہیں بدلنا چاہیے۔ اس ضمن میں بعض میڈیا رپورٹس میں جو ’فرضی میٹنگ‘ یا ’اختلافات‘ کا تاثر پیش کیا گیا ہے، وہ سراسر غلط اور گمراہ کن ہے۔ انہوں نے این سی پی کی آئندہ ضلعی جائزہ میٹنگوں کے حوالے سے بتایا کہ نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار، قومی ورکنگ صدر پرفل پٹیل اور ریاستی صدر سنیل تٹکرے کی سربراہی میں مختلف اضلاع میں جائزہ اجلاس ہوں گے۔ ان اجلاسوں میں مقامی صدور، سابق و موجودہ اراکین پارلیمنٹ و اسمبلی، تنظیمی عہدیداران اور امیدوار شرکت کریں گے۔ پیر سے جمعہ تک روزانہ ایک ایک خطے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ ان اجلاسوں میں متعلقہ اضلاع کے نگراں وزراء یا رابطہ وزراء بھی شریک ہوں گے تاکہ بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں میں کوئی کمی باقی نہ رہے۔

مہاوکاس اگاڑی کے ’ ستیہ چا مورچہ‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے پرانجے نے اسے ’ستیہ کا نہیں بلکہ جھوٹ کا مورچہ‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مورچہ دراصل شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) اور مہاراشٹر نو نرمان سینا کا زیادہ لگ رہا تھا۔ راج ٹھاکرے نے صرف انہی حلقوں کے اعداد و شمار پیش کیے جہاں مہا یوتی کے امیدوار کامیاب ہوئے، جبکہ مہاوکاس اگھاڑی کے وہ 31 حلقے جہاں سے ان کے امیدوار جیتے، ان کی فہرست میں بھی دوہری ووٹر انٹریز موجود تھیں۔ اگر راج ٹھاکرے واقعی ایمانداری سے اعداد و شمار دیتے تو ان علاقوں کا بھی ذکر کرتے۔ پرانجپے نے کہا کہ اگر دوہری ووٹنگ کی وجہ سے ہی یوتی امیدوار جیتے تو پھر یہی منطق مہاوکاس اگاڑی کے ان 31 ارکانِ پارلیمنٹ پر بھی لاگو ہوگی جو انہی فہرستوں کے ذریعے کامیاب ہوئے۔ ووٹر لسٹ کی شفافیت ہر پارٹی کی ذمہ داری ہے، لیکن انتخابی ہار کو ’دوہری ووٹنگ‘ کے بہانے سے چھپانا سیاسی کمزوری کی علامت ہے۔

آنند پرانجپے نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے دوران ملک میں یہ غلط تاثر پھیلایا گیا کہ بابا صاحب امبیڈکر کا دیا ہوا آئین تبدیل کیا جائے گا اور اقلیتوں کے حقوق چھین لیے جائیں گے، مگر عوام نے ایسے پروپیگنڈے کو رد کرتے ہوئے بی جے پی اور اس کے اتحادیوں پر اعتماد کیا۔ اسمبلی انتخابات میں بھی عوام نے ترقیاتی پالیسیوں کو ووٹ دیا۔ لاڈکی بہن یوجنا کے تحت دو کروڑ 48 لاکھ خواتین کو فائدہ پہنچا، ساڑھے سات ایچ پی سے کم بجلی کے پمپ رکھنے والے کسانوں کے بقایا بل معاف کیے گئے، جس سے تقریباً 14 ہزار کروڑ روپے کا ریلیف ملا۔ یہی عوام دوست فیصلے مہا یوتی کی کامیابی کی بنیاد بنے۔ اب جب مہاوکاس اگھاڑی کو اپنی شکست برداشت نہیں ہو رہی، وہ ای وی ایم پر سوال اٹھا رہی ہے۔ حالانکہ یہی لوگ لوک سبھا انتخابات میں جیتنے کے بعد ای وی ایم پر یقین رکھتے تھے۔

اپوزیشن لیڈر ادھو ٹھاکرے کے ’اینا کونڈا‘ والے تبصرے پر پرانجے نے کہا کہ ہر لیڈر کو اپنے سیاسی موقف کے اظہار کا حق ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہاراشٹر کی عوام نے لوک سبھا اور اسمبلی دونوں انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی قیادت پر زبردست اعتماد ظاہر کیا ہے۔ اسی عوامی تائید کی بنیاد پر وہ پُر اعتماد ہیں کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کا میئر بھی مہا یوٹی سے ہی منتخب ہوگا۔ انہوں نے ستارا میں خودکشی کرنے والی خاتون ڈاکٹر کے معاملے پر کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے۔ وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس اور نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار اس معاملے کو پوری سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ حکومت نے اعلیٰ خاتون آئی پی ایس افسر کی قیادت میں ایس آئی ٹی تشکیل دے دی ہے تاکہ متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف مل سکے۔ روہت آریہ معاملے پر انہوں نے کہا کہ اس کی تحقیقات کرائم برانچ کو سونپی گئی ہے۔ سچائی جلد سامنے آئے گی، لیکن کسی بھی شہری کو تشدد یا دھمکی کا سہارا نہیں لینا چاہیے۔ پولیس کارروائی کے دوران اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوا ہے تو اس کی غیرجانبدارانہ تحقیقات جاری ہیں اور قصورواروں کو سزا ضرور ملے گی۔

NCP Urdu News 2 Nov. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading