این سی پی کے ایم ایل اے جیتندراوہاڈ کے خلاف چھیڑ چھاڑ کا مقدمہ درج : ویڈیو دیکھیں

812
  • یہ کارروائی سیاسی انتقام اور مخالفین کی آواز کو دبانے کے لیے کی گئی ہے: جینت پاٹل
  • اگر چاردن ساس کے ہوتے ہیں تو چاردن بہو کے بھی ہوتے ہیں، حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہئے: اجیت پوار

  • یہ سیاسی انتقام کی کارروائی ہے، این سی پی مکمل طو رپر اوہاڈ کے ساتھ ہے: مہیش تپاسے

ممبئی: این سی پی کے ممبراسمبلی اورسابق وزیر جیتندراوہاڈ کے خلاف چھیڑ چھاڑکا مقدمہ درج ہونے پر این سی پی کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ این سی پی کے ریاستی صدرسے لے کر اپوزیشن لیڈر وریاستی ترجمان تک سبھی نے اس مقدمے کے خلاف آواز بلند کی ہے اور حکومت سے فوری طور پر یہ مقدمہ واپس لینے کے لیے کہا ہے۔ واضح رہے کہ ممبرکلوا میں فلائی اووربریج کے افتتاح کے دوران بھیڑ بھاڑ کے میں ایک خاتون نے جیتندراوہاڈ پر چھیڑچھاڑ کا الزام عائد کیا، جس کے بعد پولیس نے اوہاڈکے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس خاتون کی شکایت پر یہ مقدمہ درج ہوا ہے وہ بی جے پی کے ذریعے ایک پریس کانفرنس میں شریک ہوکر اوہاڈ پر خود کو چھیڑنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بھی نظر آئیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوہاڈ کے خلاف یہ مقدمہ ایک سیاسی انتقام کے تحت درج ہوا ہے۔ یہاں یہ بھی یاد رہے کہ 24گھنٹے کے اندر اوہاڈ کے خلاف یہ دوسرا مقدمہ ہے۔

اوہاڈکے خلاف یہ مقدمہ درج ہونے کے بعد این سی پی کے ریاستی صدر وسابق آبی وسائل کے وزیر جینت پاٹل نے کہا کہ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے اور عوام کو لاحق پریشانیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے حکمراں طبقہ شب وروز بس یہی کوشش کرتا ہے کہ کوئی ایسا ایشوپیدا کردیا جائے کہ اصل ایشودب جائے۔ اسی لیے وہ اسی سازش

میں مصروف رہتی ہے کہ مخالفین کو کیسے گرفتار کیا جائے۔ لیکن اس طرح کی سازشیں کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ مہاراشٹر کی ترقی اورعوامی مسائل کے حل کے لیے جس سے بھی لڑنا پڑاہم لڑیں گے، آگے بڑھیں گے اور کامیاب بھی ہونگے۔ جینت پاٹل نے کہا کہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اقتدار کا غلط استعمال کرتے ہوئے مخالفین کی آواز کودبانے، ان کا دائرہ تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سام دام دنڈ بھید کا استعمال کرتے ہوئے حکمراں طبقہ اپنا سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اس سے ریاست کے عوام کا غصہ بڑھتا جارہا ہے کیونکہ عوام سب کچھ جانتی ہے۔ عوام یہ جانتی ہے کہ مخالفین پر یہ کارروائیاں حکومت اپنی ناکامی پردہ ڈالنے اور اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے کررہی ہے۔ اس کے لیے وہ پولیس فورس کے ساتھ مرکزی ایجنسیوں کا بھی استعمال کررہی ہے۔ یہ آمریت ہے اور مہاراشٹر کی روایت آمریت کو قطعی برداشت کرنے کی نہیں ہے۔

ریاست کے اپوزیشن لیڈر اجیت پوار نے کہا کہ کسی عوامی نمائندے کے خلاف جان بوجھ کر چھیڑ چھاڑ کا مقدمہ درج کرنا انتہائی گھٹیا حرکت ہے۔ حکومت اس مقدمے کو فوری طورپر واپس لے۔انہوں نے کہا کہ این سی پی لیڈر اور سابق وزیر جتیندر اوہاڈ کے خلاف 24 گھنٹے کے اندر دو کیس درج کئے گئے ہیں۔ انہیں پریشان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اجیت پوار نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مراٹھی کی یہ کہاوت سبھی کو یاد رکھناچاہئے کہ اگرچار دن ساس کے ہوتے ہیں تو چار دن بہو کے بھی ہوتے ہیں۔ریاست کے وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کو اس معاملے میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اجیت پوار نے یہ بھی کہا کہ مہاراشٹر میں لوگوں کو درپیش مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے اس طرح کے غیرضروری مسائل پیدا کرنا نہایت خطرناک ہیں۔اجیت پوار نے کہا کہ اگر کوئی قانون ہاتھ میں لیتا ہے یا کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے لیکن حکومت اس معاملے میں عوامی نمائند ے کی پارٹی کو بنیاد بنارہی ہے جو انتہائی غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی وجہ کے نئے قانون کے تحت عوامی نمائندوں کو بدنام کرنے کی روش نہایت گھٹیا ہے۔

این سی پی کے ریاستی چیف ترجمان مہیش تپاسے نے کہا کہ ایم ایل اے جتیندر اوہاڈ کے خلاف جان بوجھ کر سیاسی انتقام کے تحت چھیڑچھاڑ کی کارروائی کی گئی ہے۔ اس کارروائی کی این سی پی سخت مذمت کرتے ہوئے جیتندراوہاڈ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ایم ایل اے جتیندر اوہاڈ نے کلوا ممبرا فلائی اوور کے افتتاح کے دوران وزیر اعلیٰ کے ذریعے کریڈیٹ لینے پر ان کی تنقید کی تھی اور اسی تنقید کی بناء پر ان کے خلاف چھیڑچھاڑ کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ آئین وجمہوریت کے تحفظ کے لیے مسلسل اپنی آواز بلند کرنے والے جیتندراوہاڈ کے چھیڑچھاڑ کا جھوٹا مقدمہ شندے وفڈنویس حکومت نے درج کرایا ہے۔ جس خاتون نے ویڈیودیا ہے وہ وزیراعلی کے پروگرام میں شریک ہوئی تھی۔ اس موقع پر بھیڑبھاڑ اتنی زیادہ تھی کہ باہر نکلنا مشکل ہورہا تھا۔پولیس لوگوں کو ایک کنارے کررہی تھی۔ اسی بھیڑ میں وہ خاتون بھی تھی۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے موقع پر چھیڑ چھاڑ کا معاملہ کس قدر ممکن ہوسکتا ہے؟ تپاسے نے کہا کہ جتیندر اوہاڈ ریاستی حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہتے ہیں، اس لیے اگر انہوں نے ہاتھ لگاکر کسی کو کنارے ہونے کا کہیں تو کیا اسے چھیڑ چھاڑ کہیں گے؟