NCP Urdu News 11 July 25

صوتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے ڈیسِبل کی موجودہ حدیں ناکافی

رکن اسمبلی ثنا ملک شیخ کی اسمبلی میں پرزور توجہ دہانی، وزیر اعلیٰ فڑنویس نے مرکزی حکومت کو سفارش بھیجنے کا دیا وعدہ

ممبئی: 11 جولائی۔ مہاراشٹر کے رواں اسمبلی اجلاس میں کل صوتی آلودگی (Noise Pollution) کے بڑھتے مسئلے پر ایک سنجیدہ بحث اس وقت چھڑ گئی جب رکن اسمبلی ثنا ملک شیخ نے مذہبی و سماجی تقریبات کے دوران پیدا ہونے والے حد سے زیادہ شور کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرائی۔ انہوں نے اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں میں صوتی آلودگی ایک سنگین ماحولیاتی و سماجی مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جو عوام کی صحت، ذہنی سکون اور بچوں و بزرگوں کی زندگی پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔

رکن اسمبلی نے بتایا کہ صوتی آلودگی کو قابو میں رکھنے کے لیے جو قانون 2000 میں بنایا گیا تھا، اس میں رہائشی علاقوں کے لیے دن کے وقت زیادہ سے زیادہ 55 ڈیسِبل اور رات کے وقت 45 ڈیسِبل کی حد مقرر کی گئی ہے، جب کہ تجارتی علاقوں میں یہ حد دن کے وقت 65 اور رات کو 55 ڈیسِبل ہے۔ صنعتی علاقوں میں دن کے وقت 75 اور رات کو 70 ڈیسِبل کی اجازت دی گئی ہے۔ مگر موجودہ وقت میں ان حدود پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے اور اکثر مذہبی تقریبات، لاؤڈ اسپیکر، جلوس اور سیاسی جلسوں میں شور کی سطح خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ثنا ملک شیخ نے کہا کہ یہ معاملہ ریاست کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے کیونکہ ڈیسِبل کی قانونی حدود مرکز کے ماتحت ہیں، مگر ریاستی حکومت ایک جامع سروے کے ذریعے اس مسئلے کی شدت کو اجاگر کرتے ہوئے مرکز کو ترمیمی تجاویز بھیج سکتی ہے۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ اسمبلی کے اندر بھی اس وقت آواز کی سطح 60 ڈیسِبل سے اوپر ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ حالات کس قدر قابو سے باہر ہو چکے ہیں۔

اس توجہ دہانی کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے تسلیم کیا کہ یہ ایک حقیقی اور اہم مسئلہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ریاستی حکومت جلد ہی اس مسئلے پر ماہرین سے مشورہ لے کر ایک مفصل رپورٹ کی تیاری کرے گی اور اس کی بنیاد پر مرکزی حکومت کو سفارش بھیجی جائے گی تاکہ موجودہ قوانین میں ضروری ترمیم کی جا سکے۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ صوتی آلودگی صرف سماعت پر ہی نہیں بلکہ نیند میں خلل، ذہنی دباؤ، دل کے امراض اور بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس پس منظر میں ثنا ملک شیخ کی جانب سے پیش کی گئی سفارش ایک بروقت اور عوامی مفاد میں کی گئی کوشش قرار دی جا رہی ہیں، جن پر جلد عملی اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔

NCP Urdu News 11 July 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading