NCP Urdu News 10 Nov 22

اپوزیشن لیڈروں کی آوازکودبانے کے لیے مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال: مہیش تپاسے

سیاسی انتقام کے تحت جیل میں بندکرنے کی کوشش

ممبئی:غیربی جے پی لیڈروں کی آوازدبانے کے لیے جس طرح مرکزی ایجنسیو ں کا استعما ل کیاجارہا ہے اس نے ملک کی عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ محض سیاسی انتقام کے تحت مخالفین کو جیلوں میں بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔شیوسینا کے ترجمان وممبرپارلیمنٹ سنجے راؤت کی رہائی پر یہ باتیں این سی پی کے ریاستی چیف ترجمان مہیش تپاسے نے کہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سنجے راؤت کو ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے یہ واضح کیا کہ انہیں غلط طریقے سے گرفتار کیا گیا تھا اور ان کے خلاف غلط مقدمات درج کئے گئے۔ عدالت نے مرکزی ایجنسی کو پھٹکار لگاتے ہوئے ان کی کارروائی پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ای ڈی اتنی تیزی سے کارروائی کرتی ہے لیکن تفتیش میں جانبداری برتتی ہے۔ سابق مرکزی وزیرزراعت شردپوار وسابق وزیراعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ کے نام مقدمات میں شامل کیے گئے تاکہ ان میں خوف پیدا ہو۔ یہ سب باتیں عدالت نے سنجے راؤت کی ضمانت کا فیصلہ دیتے ہوئے کہی ہیں۔ اس لیے اب یہ بات تقریباً ثابت ہوچکی ہے کہ مرکزی ایجنسیوں کا اپوزیشن لیڈروں پر سیاسی انتقام کے تحت استعمال کیا جارہا ہے۔

تپاسے نے کہا کہ گجرات میں بی جے پی کے ایک ایم ایل اے کے خلاف گجرات ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا لیکن اسے بچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جبکہ دوسری جانب مہاراشٹر میں مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈروں کو نشانہ بنایاجارہا ہے۔کیا اس کا مطلب یہ نہ نکالا جائے کہ بی جے پی اپوزیشن لیڈروں کی آواز کو دبانے کے لیے مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہی ہے؟ اس کا جواب دیا جانا چاہئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading