NCP-SP Urdu News 25 January 25

سنتوش دیشمکھ اور سومناتھ سوریہ ونشی کے قتل کے خلاف عوامی احتجاج، انصاف کا مطالبہ

ممبئی: بیڑ ضلع کے مساجوگ گاؤں کے سرپنچ مرحوم سنتوش دیشمکھ اور پر بھنی ضلع کے سماجی کارکن مرحوم سومناتھ سوریہ ونشی کے قتل نے نہ صرف ان کے خاندانوں بلکہ پورے مہاراشٹر کے عوام کو غم اور غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ دونوں افراد نہ صرف اپنے اپنے علاقوں میں اہم سماجی شخصیات تھے بلکہ انہوں نے پورے مہاراشٹر میں انصاف کے لیے آواز بلند کی تھی۔ ان قتلوں کے بعد پورے ریاست میں احتجاجی لہر دوڑ گئی ہے۔

قتل کی یہ وارداتیں مہاراشٹر میں قانون کی حکمرانی کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھا رہی ہیں۔ ایڈووکیٹ امول ماتلے نے ان واقعات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں گزشتہ کچھ عرصے سے بڑھتے ہوئے جرائم، بشمول قتل، عصمت دری اور خواتین کے اغوا حکومتی انتظامیہ کی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سماجی کارکن اور سیاسی شخصیات تک محفوظ نہیں ہیں تو عام شہریوں کا کیا حال ہوگا؟ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے سنگین جرائم کے خلاف ریاستی حکومت کو فوری طور پر مؤثر اور ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے ساتھ ہی احتجاج کرنے والوں نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اس قتل کے ذمہ دار افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمات چلائے جائیں تاکہ انصاف جلدی اور مؤثر طریقے سے فراہم کیا جا سکے۔ ایڈووکیٹ ماتلے نے اس بات کی وضاحت کی کہ یہ مطالبات اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ ایسے مجرموں کو سخت سزا دی جائے تاکہ وہ آئندہ اس قسم کے جرائم کو انجام دینے کی جرات نہ کر سکیں۔ احتجاج میں شریک افراد نے یہ بھی کہا کہ یہ نہ صرف ان دو افراد کے قتل کے خلاف ہماری آواز ہے، بلکہ یہ پورے مہاراشٹر کے شہریوں کی حفاظت کے لیے بھی ہے۔

احتجاجی مارچ کا آغاز میٹرو سنیما سے ہوا اور آزاد میدان تک پہنچا، جہاں ہزاروں کی تعداد میں شہری، مختلف پارٹیوں کے کارکنان اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ اس مارچ میں شریک افراد نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’انصاف دو، انصاف دو‘ جیسے نعرے درج تھے۔ مارچ کے منتظمین نے کہا کہ یہ احتجاج صرف سنتوش دیشمکھ اور سومناتھ سوریہ ونشی کے لیے نہیں بلکہ مہاراشٹر کے ہر شہری کے لیے ہے تاکہ ان کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

مظاہرین نے یہ بھی کہا کہ اگر آج ہم خاموش رہیں گے تو کل یہ واقعات پورے سماج کے لیے خطرہ بن جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنتوش دیشمکھ اور سومناتھ سوریہ ونشی کا قتل پورے سماج کے خلاف حملہ ہے۔ اس احتجاجی مارچ کے دوران ایڈووکیٹ امول ماتلے نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر حکومت اس پر فوری کارروائی نہیں کرتی ہے تو عوام مزید احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ انصاف کے بغیر سماج میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اس احتجاج میں دیگر سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے بھی شرکت کی اور ان مظاہرین کے مطالبات کی حمایت کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سانحہ کی حقیقت کو سامنے لایا جائے تاکہ کسی اور کو اس طرح کی ظلم و جبر کا سامنا نہ ہو۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading