این سی پی- ایس پی ممبئی میں مہاوکاس اگھاڑی کے طور پر انتخاب لڑے گی

این سی پی- ایس پی کے ریاستی صدر ششی کانت شندے کا اعلان

ممبئی: این سی پی- ایس پی کے ریاستی صدر اور رکنِ اسمبلی ششی کانت شندے نے واضح کیا ہے کہ ممبئی میونسپل کارپوریشن الیکشن میں ہم نے مہاوکاس اگھاڑی کے طور پر ایک ساتھ الیکشن لڑنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کے ساتھ جاری بات چیت اور مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچا گیا ہے اور آج ہونے والی میٹنگ میں اس فیصلے کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ششی کانت شندے نے بتایا کہ پارٹی کے ممبئی صدر اور کور کمیٹی شیو سینا (شندے گروپ) کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیوں سے مسلسل رابطے میں ہیں، جبکہ شیو سینا (ٹھاکرے گروپ) کے ساتھ بھی سنجیدہ اور مثبت گفتگو جاری ہے۔ ان مذاکرات کے دوران کل ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی تھی، جس میں کچھ نشستوں پر اختلافِ رائے اور مطالبات سامنے آئے۔ انہوں نے کہا کہ ان امور پر آج دوبارہ تفصیلی بات چیت کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی طرح کی غلط فہمی یا ناانصافی نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی میٹنگ کے بعد یہ طے پایا ہے کہ ممبئی میں مہاوِکاس اگھاڑی کے طور پر ہی انتخاب لڑنے کا فیصلہ قطعی ہے۔ اتحاد کے تمام فریقین کے درمیان تال میل برقرار رکھنے اور ایک مشترکہ حکمتِ عملی کے ساتھ میدان میں اترنے پر اتفاق ہو چکا ہے، تاکہ حزبِ اقتدار کو مؤثر چیلنج دیا جا سکے۔

پونے اور پمپری-چنچوڑ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ششی کانت شندے نے کہا کہ ان شہروں میں انہوں نے پارٹی عہدیداران اور انتخاب لڑنے کے خواہشمند امیدواروں کے ساتھ میٹنگیں کی تھیں۔ ان میٹنگوں میں اکثریت کی رائے یہ سامنے آئی کہ پونے اور پمپری-چنچوڑ میں اجیت پوار گروپ کے ساتھ اتحاد کرنا ضروری ہے۔ اسی پس منظر میں کل اس موضوع پر سنجیدہ بحث ہوئی اور آج بھی پارٹی عہدیداران کے ساتھ ابتدائی سطح پر مشاورت مکمل کی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اتحاد یا سیٹوں کی تقسیم کے دوران پارٹی کے کارکنان یا امیدواروں کے ساتھ کسی بھی طرح کی ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔ امیدواروں کے انتخاب پر اتفاقِ رائے قائم کرتے ہوئے ہی اتحاد کو حتمی شکل دی جائے گی۔ ششی کانت شندے نے کہا کہ پارٹی کی اولین ترجیح کارکنوں کا اعتماد، تنظیم کی مضبوطی اور مشترکہ طور پر انتخابی میدان میں اتر کر عوامی مسائل کو مؤثر انداز میں اٹھانا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مہاوِکاس اگھاڑی متحد ہو کر ممبئی سمیت ریاست کے دیگر شہروں میں حزبِ اقتدار کے خلاف مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آئے گی اور عوام کے مسائل کی بنیاد پر انتخابی میدان میں اترے گی۔

پارٹی کے تمام لیڈروں کو اعتماد میں لیے بغیر اتحاد کا کوئی فیصلہ نہیں ہوگا: سپریا سولے

ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شردچندر پوار کی ورکنگ صدر اور رکنِ پارلیمنٹ سپریا سولےنے واضح کیا ہے کہ پارٹی میں اتحاد یا انتخابی حکمتِ عملی سے متعلق کوئی بھی فیصلہ تمام لیڈروں، عہدیداران اور کارکنوں کو اعتماد میں لیے بغیر نہیں کیا جائے گا۔ ہماری پارٹی جمہوری طریقۂ کار پر یقین رکھتی ہے اور کسی بھی اہم فیصلے سے قبل وسیع پیمانے پر مشاورت کی روایت پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔

ممبئی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سپریہ سُلے نے کہا کہ پرشانت جگتاپ کے استعفے سے متعلق کوئی تحریری اطلاع انہیں موصول نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی ریاستی صدر ششی کانت شندے نے اس حوالے سے انہیں کوئی باضابطہ معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت مختلف پارٹیوں کے ساتھ اتحاد سے متعلق محض بات چیت اور قیاس آرائیاں چل رہی ہیں اور جب تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آتا، اس پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ سپریا سولے نے کہا کہ دونوں این سی پی کے ایک ساتھ آنے سے متعلق جو باتیں سامنے آ رہی ہیں، اس پر بھی مختلف آرا موجود ہیں، لیکن پرشانت جگتاپ کی ناراضگی کے حوالے سے انہیں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ اتحاد سے متعلق جو بھی فیصلہ کیا جائے گا، وہ سبھی متعلقہ رہنماؤں سے مشاورت کے بعد ہی کیا جائے گا اور کسی پر کوئی فیصلہ مسلط نہیں کیا جائے گا۔

سپریا سولے نے بتایا کہ حال ہی میں ان کی پرشانت جگتاپ کے ساتھ تقریباً دو گھنٹے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔ اس کے باوجود کسی بھی سیاسی پارٹی کی جانب سے اتحاد سے متعلق کوئی باضابطہ تجویز پارٹی قیادت کو موصول نہیں ہوئی ہے۔ سپریا سولے نے کہا کہ ممبئی میں ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا کے ساتھ بات چیت جاری ہے، جبکہ پونے میں بھی مختلف سطحوں پر مذاکرات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جن کا ذکر خود میڈیا میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہاوِکاس اگھاڑی میں نشستوں کی تقسیم سے متعلق بات چیت اب آخری مرحلے میں ہے۔ اجیت پوار گروپ اور شردچندر پوار گروپ کے بعض رہنماؤں کے درمیان بھی مختلف سطحوں پر گفتگو ہو رہی ہے، جو ایک جمہوری عمل کا حصہ ہے۔

پونے کے تناظر میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارٹی کا ہر فیصلہ کارکن کو مرکز میں رکھ کر، پونے کے شہریوں کو مرکز میں رکھ کر اور شہر کی ترقی کو محور بنا کر ہی کیا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مقصد صرف سیاسی فائدہ نہیں بلکہ عوامی مفاد اور ترقی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہ کہ ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا کے ساتھ بات چیت آج بھی جاری رہے گی اور مہاوِکاس اگھاڑی کے تمام فریقین کو ایک ساتھ انتخابی میدان میں اترنا چاہیے، یہی ان کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹوں کی تقسیم سے بچنے کے لیے تمام پارٹیوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ترقی و عوامی فلاح کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔ اجیت پوار کے بیانات سے متعلق سوال پر سپریا سولے نے کہا کہ اجیت پوار ایک ذمہ دار رہنما ہیں، اگر انہوں نے کوئی بیان دیا ہے تو سوچ سمجھ کر اور ذمہ داری کے ساتھ دیا ہوگا، لیکن پارٹی کے پاس فی الحال اتحاد سے متعلق کوئی باضابطہ تجویز موجود نہیں ہے۔

NCP-SP Urdu News 23 Dec. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading