بابا صدیقی کے قتل کی اعلیٰ سطحی تفتیش کرائی جائے: نسیم خان

بابا صدیقی کا قتل حکومت کی نا اہلی اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے ،اسے اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے

ممبئی: سابق ریاستی وزیر اور با اثر مسلم لیڈر بابا صدیقی کے قتل نے نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ریاست میں امن و امان کی صورتحال بلکہ حکومت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔ سابق کابینی وزیر اور ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر نسیم خان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے۔

واضح رہے کہ بابا صدیقی پر فائرنگ کے واقعے کے بعد نسیم خان فوری طور پر ان کی عیادت کے لیے لیلاوتی اسپتال پہنچے۔ اس موقع پر انہوں نے بابا صدیقی کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ لیلاوتی اسپتال کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے نسیم خان نے اس واقعے کے حوالے سے حکومت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں لا اینڈ آرڈر کی صورتحال مکمل طور پر بگڑ چکی ہے اور حکومت کو فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ نسیم خان نے مزید کہا کہ بابا صدیقی کا قتل ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس کی تحقیقات میں کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں ملوث افراد کو جلد از جلد گرفتار کرے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لائے۔

نسیم خان نے کہا کہ اس ریاست میں کوئی بھی محفوظ نہیں رہ گیا ہے۔ جبکہ ایک سابق وزیر اور حکومت میں شامل پارٹی کے ایک بااثر لیڈر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حکومت کے نزدیک عوام کی کیا اہمیت ہے اور وہ لوگوں کی کس طرح تحفظ کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابا صدیقی کا قتل حکومت کی نا اہلی اور لاپرواہی کا نتیجہ ہے اور حکومت کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ اس واقعے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ریاست میں کسی کا جان و مال محفوظ نہیں ہے۔ بابا صدیقی اس پارٹی کے لیڈر تھے جو حکومت میں شامل ہے۔ اگر برسرِ اقتدار پارٹیوں کے لیڈروں کو سماج دشمن عناصر سرِ عام موت کے گھاٹ اتار سکتے ہیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ریاست میں غنڈوں اور بدمعاشوں کے حوصلے کس قدر بلند ہو چکے ہیں۔ نسیم خان نے کہا کہ ہم اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرا کر مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading