ممبئی میں کانگریس کی جانب سے خطرناک ’ووٹ چوری‘ گھوٹالے کا انکشاف
ممبئی: آنے والے ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کے لیے تیار کی گئی ووٹر لسٹوں میں سنگین بے ضابطگیوں کو لے کر کانگریس نے سخت اور جارحانہ مؤقف اختیار کر لیا ہے۔ تین مرتبہ منتخب ہونے والی سابق کارپوریٹر شیتل مہاترے نے آج ایک بڑے گھوٹالے کا پردہ فاش کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ممبئی میں ’غیر مرئی عمارتوں‘ (گھوسٹ بلڈنگز)، وجود نہ رکھنے والے ووٹروں اور خالی ای پی آئی سی (EPIC) کارڈز کے ذریعے منظم انداز میں ووٹ چوری کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ سب کچھ آئندہ انتخابات کے نتائج میں ہیرا پھیری کے لیے برسراقتدار بی جے پی اور الیکشن کمیشن کے مبینہ گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔
ممبئی کانگریس دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شیتل مہاترے نے کہا کہ بی جے پی، الیکشن کمیشن کی مبینہ بے عملی کا فائدہ اٹھا کر ممبئی میں جمہوریت کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہے اور ووٹر لسٹوں کے ذریعے دانستہ طور پر انتخابی بدعنوانی کی تیاری کی گئی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ووٹر لسٹ میں ’بھگڈالین‘ نامی ایک عمارت دکھائی گئی ہے جو آئی سی کالونی، روڈ نمبر 5 پر واقع بتائی گئی ہے اور اس میں 143 ووٹر درج ہیں، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس مقام پر ایسی کوئی عمارت موجود ہی نہیں۔ شیتل مہاترے کے مطابق یہ عمارت صرف کاغذات اور ووٹر لسٹ میں موجود ہے، عوام کی نظروں سے اوجھل ہے، مگر الیکشن کمیشن کو بظاہر صاف دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے اسے ’منظم ووٹ چوری‘ قرار دیا۔
الیکشن کمیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووٹر لسٹ کے ابتدائی مرحلے میں کانگریس نے باضابطہ طور پر اعتراضات درج کرائے تھے اور افسران نے اصلاحات کا وعدہ کیا تھا، مگر حتمی فہرست میں ان اعتراضات کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ نام حذف نہیں کیے جا سکتے، جو کہ جمہوریت کا مذاق ہے۔ ان کا الزام تھا کہ الیکشن کمیشن ایک آزاد آئینی ادارے کے بجائے بی جے پی کی انتخابی مشینری کے طور پر کام کر رہا ہے۔ شیتل مہاترے نے مزید انکشاف کیا کہ یہ گھوٹالا صرف ایک عمارت تک محدود نہیں۔ وارڈ نمبر ایک میں سو سے زائد ایسے ووٹر موجود ہیں جن کے پتے نامکمل ہیں یا بالکل درج ہی نہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ کئی ای پی آئی سی کارڈز ایسے ہیں جن پر صرف نمبر درج ہے، نہ ووٹر کا نام اور نہ ہی پتہ۔ ان کے مطابق یہ خالی شناختی کارڈ ’بلینک چیک‘ کی مانند ہیں، جن کا استعمال کوئی بھی فرضی ووٹنگ کے لیے کر سکتا ہے۔ انہوں نے اسے دانستہ کیا گیا فوجداری جرم قرار دیا۔
کانگریس کے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے شیتل مہاترے نے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی مسلسل اس بات کو بے نقاب کرتے آئے ہیں کہ بی جے پی کس طرح انتخابات میں دھاندلی کرتی ہے۔ ممبئی میں بھی ممبئی کانگریس کی صدر ورشا گائیکواڑ کی قیادت میں ان بے ضابطگیوں کے خلاف بارہا آواز اٹھائی گئی، مگر الیکشن کمیشن اور بی ایم سی افسران کی جانب سے دیے گئے وعدے عملی طور پر بے اثر ثابت ہوئے۔انہوں نے ممبئی کے عوام سے اپیل کی کہ ووٹ کا حق آئین کی عطا کردہ سب سے بڑی طاقت ہے اور ہر شہری کو اس کے تحفظ کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے واضح کیا ہے کہ ممبئی کے عوام کے حقوق چھیننے کی کسی بھی کوشش کے خلاف اس کی جدوجہد جاری رہے گی اور انصاف کے لیے سڑکوں پر اترنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔
MRCC Urdu News1. 18 Dec. 25.docx