کانگریس کو مہاراشٹر میں ایک نمبر کی پارٹی بنائیں گے: ناناپٹولے

اسمبلی کی صدارت کانگریس کے پاس ہی تھی اور رہے گی

ممبئی: کانگریس کی صدر محترمہ سونیاگاندھی و راہل گاندھی نے مجھ پر ریاستی صدر کی ذمہ داری سونپی ہے۔ گوکہ ریاست میں مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت ہے پھر بھی ہر ایک کو اپنی پارٹی کو مضبوط ومستحکم کرنے کا اختیار ہے۔ پارٹی قیادت نے مجھ پر جو ذمہ داری سونپی ہے اس پر پورا اترتے ہوئے کانگریس کو مہاراشٹر میں ایک نمبر کی پارٹی بناؤنگا۔ اس عزم کا اظہار آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے نو منتخب صدر ناناپٹولے نے کی ہیں۔

ناناپٹولے کے ریاستی صدر منتخب ہونے پر ممبئی کانگریس کی جانب سے ان کے چارج لینے کے پروگرام کی تیاری کے لیے ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں ممبئی کانگریس کے صدر بھائی جگتاپ، وزیرتعلیم ورشاگائیکواڑ، نومنتخب ریاستی کارگزارصد وسابق وزیر نسیم خان، ممبئی کانگریس کے کارگزار صدر چرن سنگھ سپرا، ممبئی کانگریس کے سابق صدر ایکناتھ گائیکواڑ، سابق وزیر باباصدیقی، سابق ایم ایل اے یوسف ابراہانی، ریاستی کانگریس کے اوبی سی شعبہ کے صدر پرمود مورے، سنجئے لاکھے پاٹل، ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری رام کشن اوجھا، ڈاکٹر سید ذیشان احمد، دیوندرپوار، ممبئی کانگریس شعبہ خواتین کی صدر اجنتایادو سمیت ریاستی کانگریس وممبئی کانگریس کے عہدیداران وسیل کے سربراہان موجود تھے۔

اس میٹنگ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے نومنتخب صدر ناناپٹولے نے کہا کہ مودی سرکار کے آمرانہ طریقہ کار کی وجہ سے ملک میں ایک طرح سے ایمرجنسی کی حالت پیدا ہوگئی ہے۔ 70دنوں سے زائد عرصے سے ہزاروں کسان ملک کے راجدھانی کی سرحد پر احتجاج کررہے ہیں۔ ان سے بات چیت کرکے ان کے مسائل حل کرنے کے بجائے مرکزی حکومت انہیں ملک دشمن وخالصتانی قرار دینے کی کوشش کررہی ہے۔ اب اس ملک میں بی جے پی بمقابلہ کسان کی لڑائی شروع ہوچکی ہے۔ کانگریس پارٹی اس لڑائی میں کسانوں کے ساتھ ہے۔ ملک بھر میں جاری کسان آندولن کو ہم مہاراشٹر سے بھی مضبوط طاقت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی آج راجیہ سبھا میں بولے جو ایک نئی خبر ہے۔ کیونکہ وزیراعظم بننے کے بعد سے وہ پارلیمنٹ کے بجائے انتخابی ریلیوں میں بولتے ہیں۔ وہ مسلسل سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی مثال دیتے ہیں پھر جی ایس ٹی کا جو قانون منموہن سنگھ لانا چاہتے تھے، اسے تبدیل کرتے ہوئے اس کو گبرسنگھ ٹیکس کیوں بنادیا؟۔ سچائی یہ ہے کہ اس ملک کے وزیراعظم جھوٹ بولتے ہیں جو ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے۔ ایک دور تھا جب کہا جاتا تھا کہ انڈرورلڈ کے لوگ سلیبریٹیز پر دباؤ ڈال کر انہیں اپنے مطابق کام کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ لیکن اب مرکز کی مودی حکومت عوام کی توجہ ان کے بنیادی مسائل سے ہٹانے کے لیے سلیبریٹیز کا استعمال کررہی ہے جو نہایت سنگین اور افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی صدارت کانگریس کے ہی پاس تھی اور وہ کانگریس کے پاس ہی رہے گی اور پارٹی بہت جلد کسے صدر بنانا ہے؟ اس پر فیصلہ کرے گی۔