کانگریس پارٹی کی جانب سے تفتیش کا مطالبہ، وزیرداخلہ کامحکمہ خفیہ کو تفتیش کا حکم

ممبئی: کسانوں کی حمایت میں دنیا کی مشہور شخصیات کے ذریعے کیے جانے والے ٹویٹ کے جواب میں ملک کی مشہور شخصیات کو ٹویٹ کرنے کے لیے کیا بی جے پی نے کوئی دباؤ ڈالا تھا؟ ملکی سطح پر کئی آئینی اداررں، اپوزیشن پارٹیوں کی سرکاروں نیز مودی حکومت کے خلاف بولنے والوں پر مودی حکومت کی ناراضگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ملک کی ان اہم شخصیات پر مودی کا دباؤ تھا۔اس لیے اس کی تفتیش کی جائے کہ اس پورے معاملے میں بی جے پی کا کوئی رول تھا یا نہیں۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے وزیرداخلہ انیل دیشمکھ سے زوم میٹنگ کے ذریعے کی ہے۔وزیرداخلہ نے اس معاملے کی نوعیت دیکھتے ہوئے محکمہ خفیہ کو اس کی تفتیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس ضمن میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ ملک بھر کے خصوصاً پنجاب، ہریانہ، راجستھان ومغربی اترپردیش کے کسان دہلی کی سرحد پر احتجاج کررہے ہیں جبکہ مودی حکومت احتجاج کرنے والے ان کسانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ومہاتماگاندھی جی کا ملک ہونے کی بنا پر ہندوستان کے جمہوری ملک کی روایت کا دنیا احترام کرتی ہے۔ اس لیے مودی حکومت کے اختیار کردہ غیرجمہوری نظام اور کسانوں کے ساتھ کیے جارہے ظلم کے بارے میں دنیا کا تشویش ظاہر کرنا لازمی ہے۔ لیکن اس معاملے میں مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی جواب دینے کے بجائے امریکی پاپ اسٹار ریحانہ کے ٹویٹ کے خلاف حکومت نے جواب دیا اور اس کے بعد اسی طرح کے کئی ٹویٹ فلم وکرکٹ کی دنیا کی اہم شخصیات نے کیں۔ سچن ساونت نے کہا کہ اگرکوئی شخص انفرادی سطح پر اپنے کسی رائے کا اظہار کرتا ہے تو یہ اسکا آئینی وبنیادی حق ہے، جس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اگر کسی دباؤ کے تحت اس سے کسی رائے کا اظہار کرایا جارہا ہے تو یہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ اس کی شدید مخالفت بھی کی جانی چاہیے۔فلم وکرکٹ کے دنیا کی اہم شخصیات کے مذکورہ ٹویٹ کا تجزیہ کیا جائے تو بدقسمتی سے دباؤ کے امکان کی تصدیق ہوجاتی ہے کیونکہ بیشتر ٹویٹ میں Amicable لفظ کا یکساں استعمال ہوا ہے۔ اس میں بھی اکشے کمار وسائنا نہوال کے ٹویٹ ایک ہی ہیں، جس سے ایسا لگتا ہے کہ کسی ایک شخص نے اس کی اسکریٹ لکھی ہو۔ دوسری جانب فلم اداکار سنیل شیٹی نے جو ٹوویٹ کیا ہے اس میں انہوں نے ممبئی بی جے پی کے نائب صدر ہتیش جین کو ٹیگ کیا ہے۔ اس لیے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس بات کی تفتیش کی جائے کہ اس کے پیچھے کہیں بی جے پی کا دباؤ یا اس کی منصوبہ بندی تو نہیں تھی؟

سچن ساونت نے مزید کہا کہ مصنوعی رائے عامہ تیار کرنے کے لیے بی جے پی اس طرح کے دباؤ بناتی ہے اس لیے بھی اس کی تفتیش کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی ذہنیت کنپٹی پر پستول رکھنے کی ہے جس سے پوار ملک واقف ہے۔ ایسے میں جمہوری طور پر اپنی رائے ظاہر کرنے کے اختیار کا استعمال کرنے کے لیے آزادانہ ماحول فراہم کرنا مہاراشٹر وکاس اگھاڑی حکومت کی ذمہ داری ہے اور اسی لیے یہ حکومت قائم ہوئی ہے۔ اس لیے اس معاملے میں بی جے پی کے کنکشن کی تفتیش کرنے کا مطالبہ کانگریس کے وفد نے کیا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان سیلیبریٹز کو مودی حکومت سے تحفظ بھی فراہم کیا جائے۔کورونا سے متاثر ہونے کے باوجود وزیرداخلہ نے اس پورے معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیتے ہوئے محکمہ خفیہ کو اس کی تفتیش کا حکم دیا ہے۔ کانگریس کی جانب سے اس مطالباتی میٹنگ میں سچن ساونت کے علاوہ ترجمان ڈاکٹرراجو واگھمارے، گجانن دیسائی وونئے کھامکر موجود تھے۔