تاریخی بھارت جوڑو یاترا کی پہلی سالگرہ پر کانگریس کی ریاست گیر پد یاترا اور عوامی جلسہ

ایل پی جی گیس کی قیمتوں کے ذریعے مودی حکومت کی لوٹ کو بے نقاب کیا جائے گا

ممبئی: کانگریس لیڈر اور ایم پی راہل گاندھی نے کنیا کماری سے کشمیر تک 4 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ بھارت جوڑو یاترا کے ذریعے انہوں نے ملک کو متحد کیا ہے۔ اس تاریخی بھارت جوڑو یاترا کو 7 ستمبر 2023 کو ایک سال مکمل ہو رہاہے۔اس موقع پر مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی 7 ستمبر کو ریاست بھر کے تمام اضلاع میں بھارت جوڑو یاترا کا اہتمام کرکے اس کی پہلی سالگرہ منائے گی۔

7 ستمبر کو دوپہر 1 بجے تمام اضلاع میں بڑے بڑے لیڈر پریس کانفرنس کے ذریعے مرکز کی مودی حکومت کی لوٹ کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔ لوگوں کو بتایاجائے گا کہ سال 2014 میں ایل پی جی گیس کی قیمت 450 روپے تھی جو گزشتہ 9 سالوں میں بڑھ کر 1150 روپے تک پہنچ گئی۔ اس کے ساتھ ہی رکھشا بندھن کے موقع پر لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایل پی جی کی قیمت میں 200 روپے کی کمی کی گئی۔ مودی سرکار کا یہ تاجرانہ رویہ عام آدمی کو لوٹنے والا ہے۔ مودی سرکار نے پہلے گیس کی قیمت میں 700 روپے کا اضافہ کر کے عوام کی جیبوں کو لوٹا اور اب 200 روپے کم کر کے ریلیف دینے کا ڈرامہ کر رہی ہے۔

پریس کانفرنس کے بعد شام 5 سے 6 بجے تک پدایاترا اور پھر 6 سے 7 بجے تک جنرل میٹنگ ہوگی۔ اس پروگرام کے لیے کانگریس لیڈران کو ضلع وار ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ ناگپور میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، ناندیڑ میں سابق وزیر اعلیٰ اشوک چوہان، احمد نگر میں قانون ساز پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات، اکولہ میں اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر وجے ودیٹی وار، پونے ضلع میں سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، تھانے میں ریاستی ورکنگ صدر عارف نسیم خان، ناسک میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کے رکن اور ریاستی ورکنگ صدر چندرکانت ہنڈورے، کولہاپور میں قانون ساز کونسل کے گروپ لیڈر ستیج بنٹی پاٹل، اورنگ آباد میں ریاستی ورکنگ صدر بسواراج پاٹل، شولاپور میں ریاستی ورکنگ صدر اور ایم ایل اے پرنیتی شندے اور جلگاؤں میں ریاستی ورکنگ صدر کنال پاٹل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکز اور ریاست کی بی جے پی حکومت کو بے نقاب کریں گے۔ اس کے بعد تمام اضلاع کے تاریخی مقامات سے بھارت جوڑو یاترا شروع کی جائے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading