مسابقتی امتحانات دینے والے طلبہ کی مشکلات کو گورنر دور کریں

نجی کمپنیوں کے بجائے MPSC سے براہ راست بھرتی کی جائے

کانگریس کے ریاستی صدرنانا پٹولے نے طلباء کے ساتھ گورنر سے ملاقات کی

ممبئی:ریاست میں 32 لاکھ طلباء مسابقتی امتحانات کی تیاری کر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت کے مختلف محکموں میں ملازمین کی بھرتی کے ساتھ ساتھ ایم پی ایس سی کی تقرری کا عمل متنازعہ اور ایماندار طلباء کے ساتھ غیر منصفانہ ہوتا جا رہا ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے بدھ کو راج بھون میں گورنر رمیش بیس سے ملاقات کی اور اس معاملے میں ان سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے گورنر سے درخواست کی کہ طلباء کے مسائل کے حل کے لیے ضروری ہدایات دیں، کیونکہ ریاستی حکومت سے بار بار درخواست کرنے کے باوجود اس معاملے میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے طلباء کے نمائندوں کے ساتھ راج بھون میں گورنر رمیش بیس سے ملاقات کی اور انہیں مقابلہ جاتی امتحان سے متعلق طلباء کے مختلف مسائل اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کی بھرتی سے متعلق مسائل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر ریاستی کارگزار صدر اور سابق وزیر نسیم خان، ایم ایل اے دھیرج لیگاڈے، ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے، ریاستی جنرل سکریٹری دیوآنند پوار، پنویل ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر سودان پاٹل، طلبہ کے نمائندے بلیرام ڈولے، آدتیہ گرکل، انیل گیتے، تریمبک ہپرکر،گنیش گونڈال، ویبھو گاڈوے ودیگر موجود تھے۔

اس موقع پر عزت مآب گورنر کو ایک میمورنڈم بھی دیا گیا جس میں کہاگیا ہے کہ ممبئی پولیس کی بھرتی، محکمہ جنگلات، تالٹھی بھرتی کے ساتھ ساتھ ایم پی ایس سی امتحان میں پیپر لیک اور نقل سے متعلق کئی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ مہاراشٹر میں پیپر لیک کرنے کے خلاف موجودہ قانون میں سخت سزا کا التزام نہیں ہے، اس لیے کئی گروہوں کے ذریعہ سوالیہ پرچے لیک کیے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے غریب اور ایماندار امیدوار دن رات پڑھائی کے باوجود پیچھے رہ رہے ہیں۔ اس طرح کے واقعات کو روکنے کے لیے راجستھان اور اتراکھنڈ کی طرح مہاراشٹرا میں جلد از جلد ایک سخت قانون پاس کیا جانا چاہیے۔ پٹولے نے کہا کہ ریاستی حکومت کی آشیرباد سے پرائیویٹ کمپنیاں ہر بھرتی کے عمل میں 1000 روپے فیس کے نام پر غریب طلباء کو لوٹ رہی ہیں۔ یہ تمام بھرتیاں اگر MPSC کے ذریعے کرائی جائیں تو لاکھوں امیدواروں کو انصاف اور راحت مل سکتی ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ سروس کمیشن کے ذریعہ منتخب کردہ بہت سے امیدوار جو حکومت کی مختلف پالیسیوں اور ریزرویشن یا کسی اور وجہ سے عدالتی عمل میں پھنس گئے ہیں انہیں عدالتی فیصلے کی بنیاد پر تقرری دی جانی چاہئے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ سرکاری عہدوں پر کنٹراکٹ بھرتی کو فوری طور پر منسوخ کیا جائے اور 6 ستمبر 2023 کے حکومتی فیصلے کو واپس لیا جائے۔ محکمہ تعمیرات عامہ میں جونیئر انجینئر گروپ-بی نان گزیٹڈ (انجینئرنگ) کے عہدوں کے لیے نئے سروس انٹری رولز کا فوری اعلان کیا جائے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ طلباء کی کم تعداد کے نام پر اسکولوں کو بند کرنے کے جابرانہ فیصلے کو فوری طور پر منسوخ کیا جاناچاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے غریب طلباء تعلیم حاصل نہیں کر سکیں گے۔ دیہی اور دور دراز علاقوں میں سب سے غریب قبائلی طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ سب کے لیے تعلیم کو عام بنانے کے نام پر غریب اور قبائلی بچوں سے تعلیم کا حق چھینا جا رہا ہے۔جس مہاراشٹر میں مہاتما جیوتی باپھلے، راجرشی شاہو مہاراج، ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکرجیسے سماجی مصلحین نے تعلیم کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں وہاں اس طرح کا فیصلہ لینا چونکانے والا اور شرمناک ہے۔

IMG_2975.pdf

IMG_2971.pdf