نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے خصوصی طور پر اس اسکیم کو منظور کرایا، طلبہ کا اظہار تشکر
ممبئی:منترالیہ میں گزشتہ ہفتے (21 ستمبر کو) نائب وزیراعلی اجیت پوار کی صدارت میں اقلیتی طبقے کے مختلف مسائل کے سلسلے میں ایک خصوصی میٹنگ ہوئی تھی۔ اس میٹنگ میں اس بات پر غور کیا گیا تھا کہ دیگرطبقات کی فلاح وبہبود کے لیے کام کرنے والے ادارے مثلا مہاجیوتی، سارتھی، بارٹی جیسے اداروں کے ذریعے نافذ کیے جانی والی فلاحی اسکیموں کو مولانا آزادمالیاتی ترقیاتی کارپوریشن میں لاگو کیا جائے۔ اس میٹنگ میں طئے کی گئی باتوں کے پیشِ نظرحکومت کے ذریعے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے اسکالرشپ دینے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔یہ فیصلہ نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار کی پہل پر لیا گیا ہے، اقلیتی طلبہ نے جس کا استقبال کرتے ہوئے نائب وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کابینہ کے اجلاس میں اقلیتی طلبہ کے لیے بیرونِ ملک تعلیم کے لیے اسکالرشپ اسکیم دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اسکیم سے ہر سال 27 طلباء فائدہ اٹھاسکیں گے۔ یہ وظیفہ ان طلباء کو دیا جائے گا جو QS ورلڈ رینکنگ کے ٹاپ 200 میں شامل بیرون ملک کے تعلیمی اداروں میں پوسٹ گریجویٹ پی ایچ ڈی کورس میں غیر مشروط داخلہ کے اہل ہیں۔ اس کے لیے 10 کروڑ 80 لاکھ روپئے کے اخراجات کو منظوری دی گئی ہے۔ان میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ کے لیے کل 10، میڈیسن اور بائلوجی، لبرل آرٹس اور ہیومینٹیز کے لیے 6، زراعت کے لیے 3 اور قانون اور تجارت کے لیے 2، اس طرح کل 27 وظائف ہوں گے۔
مسلم طبقے کے مختلف مسائل کے حل کے لیے گزشتہ ہفتے منترالیہ میں ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار کے دفتر میں ایک جائزہ میٹنگ منعقد ہوئی تھی، جس میں کئی اہم فیصلے لیے گئے۔ اسکالرشپ کا یہ فیصلہ منگل کوہوئے کابینہ کے اجلاس میں کیاگیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ سے اقلیتی طبقے میں خوشی پائی جارہی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر اجیت پوار کو اقلیتی برادری کی جانب سے مبارکباد دی جارہی ہے اور امید ہے کہ میٹنگ میں لیے گئے دوسرے فیصلے بھی جلد ہی پورا ہونگے۔
