MPCC Urdu News 4 July 25

’جے گجرات‘ کا نعرہ لگانے والے ایکناتھ شندے گجرات اور امیت شاہ کے غلام: ہرش وردھن سپکال

مہاراشٹر کی خودداری کو ٹھیس پہنچانے والے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو استعفیٰ دینا چاہیے

ایکناتھ شندے نے بالاصاحب ٹھاکرے کی تعلیمات کو بھی خاک میں ملا دیا، گجراتی ’مالک‘ کو خوش کرنے کے لیے اور کتنی پستی میں جاؤ گے؟

ممبئی:4 جولائی 2025

مہاراشٹر وہ سرزمین ہے جو چھترپتی شیواجی مہاراج کی غیرت و خودداری کی علامت رہی ہے۔ شیواجی مہاراج نے سورات پر چڑھائی صرف اس لیے کی تھی تاکہ اپنا سوراجیہ کو قائم کر سکیں۔ لیکن آج اسی مہاراشٹر میں، ایکناتھ شندے جیسے غلاموں نے اس ریاست کی خودداری کو گجرات کے سامنے گروی رکھ دی ہے۔ جو شخص صرف اقتدار کے لیے اتنا مجبور ہو جائے، وہی مہاراشٹر کی سرزمین پر کھڑے ہو کر ’جے گجرات‘ کا نعرہ لگا سکتا ہے۔ لیکن ایک خوددار مراٹھی انسان کبھی بھی اس طرح کی بے غیرتی برداشت نہیں کرے گا۔ یہ سخت حملہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرشوردھن سپکال نے کیا ہے۔

ایکناتھ شندے کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ بالاصاحب ٹھاکرے کی شیو سینا کو توڑ کر شندے نے جس طرح پارٹی اور اس کا انتخابی نشان گجرات کے ’مالک‘ کے قدموں میں ڈال کر وزارت اعلیٰ کی کرسی حاصل کی، اس کے بعد ان کے منہ سے مودی اور شاہ کی تعریف تو کسی حد تک سمجھ میں آ سکتی ہے۔ لیکن اپنے گجراتی مالک کو خوش کرنے کے لیے ’جے گجرات‘ کہنا انتہائی شرمناک اور ذلت آمیز حرکت ہے۔ امیت شاہ کے ’وفادار سپاہی‘ بننے کے شوق میں ایکناتھ شندے نے مہاراشٹر کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ مہاراشٹر کی حکومت میں ایک سے بڑھ کر ایک عجیب و غریب کردار بیٹھے ہیں، یہ بات ایک بار پھر ثابت ہو گئی ہے۔ کیا ایکناتھ شندے یہ بھول گئے ہیں کہ وہ گجرات کے نہیں بلکہ مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ہیں؟ اس سوال کے ساتھ ہرش وردھن سپکال نے مطالبہ کیا کہ مہاراشٹر کی توہین کرنے والے ایکناتھ شندے کو فوراً استعفیٰ دینا چاہیے۔

سپکال نے مزید کہا کہ ممبئی اور مہاراشٹر کو فروخت کر کے گجرات کی تجوری بھرنے کا کام شندے کر رہے ہیں۔ گزشتہ 11 برسوں میں مہاراشٹر سے صنعتیں، ادارے، کارپوریٹ دفاتر اور ہزاروں کروڑ روپے کا سرمایہ منتقل کر کے گجرات کو دیا گیا ہے، اور اس کا بڑا سبب دیویندر فڑنویس اور ایکناتھ شندے کی گجرات نواز پالیسیاں ہیں۔ ویدانتا-فاکسکان جیسے بڑے منصوبے، جن سے مہاراشٹر کے لاکھوں نوجوانوں کو روزگار مل سکتا تھا، انہیں جان بوجھ کر گجرات منتقل کر دیا گیا۔ دوسری طرف مہاراشٹر میں کسان خودکشی کر رہے ہیں، نوجوان بے روزگار ہیں، خواتین غیر محفوظ ہیں، اور بچوں میں غذائی قلت بڑھ رہی ہے۔ مگر اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ گجرات کی غلامی کرنے میں مصروف ہیں۔ ایسے مہاراشٹر دشمن لوگوں کو اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

MPCC Urdu News 4 July 25.docx

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading