فڈنویس جی! نریندرمودی نے مہاراشٹر کو کتنی مدد دی؟ ناناپٹولے

کورونا کی وبا کے دوران حزبِ مخالف بی جے پی لیڈران کا کردار غیرذمہ دارانہ

ممبئی: مہاراشٹرفی الوقت کورونا وبا کی زد میں ہے۔ ریاست کی صورت حال تشویشناک ہے۔ ریاستی حکومت ہرمحاذ پر مضبوطی کے ساتھ ڈٹی ہوئیہے لیکن ریاست کے حزبِ مخالف لیڈران مسلسل اپنی غیرذمہ داری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ دیوندرفڈنویس نے ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مغربی ممالک میں دیئے ہوئے پیکیج کا اعداد وشمار پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے کورونا بحران کے دوران کوئی مدد نہیں کی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مرکز کی مودی سرکار نے مہاراشٹر کی اس مصیبت کی گھڑی میں کتنی مدد کی؟یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہیں۔

ناناپٹولے نے مزید کہا ہے کہ گزشتہ سال بھر سے مہاراشٹر مختلف مشکلات کا سامنا کررہا ہے۔ کورونا کی وبا، طوفان، بے موسم بارش، ودربھ میں سیلاب جیسے مصائب کا سلسلہ جاری ہے۔ اس صورت حال میں ریاست کی مہاوکاس اگھاڑی حکومت نے عوام کو راحت پہونچانے میں ہمہ وقت تیار رہی ہے۔ کورونا کی وجہ سے معاشی مشکلات کے باوجود عوام کو فائدہ پہونچانے میں ریاستی حکومت کبھی پیچھے نہیں ہٹی۔ لیکن بدقسمتی سے مرکز کی مودی سرکار نے ہمیشہ مہاراشٹر کے ساتھ امتیازی سلوک کیا۔ ریاست کے حق کی جی ایس ٹی کی رقم کی واپسی نیز دیگر فنڈ دینے میں ٹال مٹول سے کام لیا۔ ریاست کے مشکلات میں گھرے ہونے کے باوجود بی جے پی لیڈران مہاوکاس اگھاڑی حکومت کے خلاف سازشیں کرتے رہے۔ کبھی راج بھون کے ذریعے تو کبھی کچھ افسران کو استعمال کرتے ہوئے سازشی منصوبہ بندی کرنے میں مشغول رہے۔ مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا سہارا لے کر بی جے پی لیڈران نے ملک بھر میں مہاراشٹر کی بدنامی کی۔ ریاست کو معاشی مدد کی ضرورت ہونے کے باوجود بی جے پی لیڈران نے وزیراعلیٰ ریلیف فنڈ میں رقم جمع نہ کرتے ہوئے پی ایم کیئر فنڈ میں پیسے جمع کیے۔

ناناپٹولے نے کہا کہ ریاستی حکومت پر مدد نہ دینے کا جھوٹا الزام لگانے والے دیوندرفڈنویس وبی جے پی لیڈران نے نریندرمودی سرکار سے مہاراشٹر کو معاشی مدد دلانے کے لیے کیا کیا؟ مودی نے جس 20لاکھ کروڑ روپیے کے پیکیج کا اعلان کیا تھا اس کا کیا ہوا؟ اس 20لاکھ کروڑ روپئے میں سے مہاراشٹر کو کتنا کروڑ ملا؟ اس کا جواب فڈنویس وبی جے پی لیڈران کو دینا چاہیے۔ پٹولے نے طنزکرتے ہوئے کہا کہ فڈنویس کا مطالبہ درست سہی اور بہت ممکن ہے کہ وہ ریاستی حکومت کی مشکلات سے مودی کو آگاہ کررہے ہوں، لیکن المیہ یہ بھی ہے کہ دہلی میں مودی وشاہ فڈنویس کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں۔ ناناپٹولے نے کہا کہ کورونا بحران کے دوران بہتر حکمت منصوبہ بندی کرنے کے بجائے ملک کی عوام کو تالیاں وتھالیاں بجانے کی اپیل کرنے کے علاوہ مرکز کی بی جے پی حکومت نے کیا کیا؟ بغیر کسی منصوبہ بندی کے اچانک لاک ڈاؤن لگا کر پورے ملک کو اندھیرے میں ڈھکیل دیا گیا۔ لاکھوں لوگ پیدل ہی اپنے گاؤں کی جانب روانہ ہوگئے۔ اس وقت کئی لوگوں نے راستے میں ہی اپنی جان تک گنوادی۔بی جے پی نے عام لوگوں کو آگ کی کھائی میں ڈھکیلنے کا گناہ کیا۔ لاکھوں لوگوں کی دنیا ہی اجڑ گئی۔ بی جے پی کی مرکزی حکومت نے عام لوگوں کو کتنی اذیت دی؟یہ دنیا دیکھا۔ پیکیج کے نام پر صرف بڑے عدد کی جملے بازی کی۔ جس بی جے پی نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہونچادیا، اس بی جے پی کو مہاراشٹر حکومت سے سوال کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے۔