- کرنسی کو مذہبی رنگ دے کر ڈوبتی معیشت سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی کوشش
ممبئی: دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور وزیر اعظم نریندر مودی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اورملک کی بار اس بات کا مشاہدہ کرچکا ہے کہ دونوں ہی سیاسی فائدے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ کرنسی نوٹوں پر دیوی دیوتاؤں کی تصویریں چھاپنے کی اپیل کرتے ہوئے اروند کیجریوال مودی کی مدد کو دوڑے ہیں اور ڈوبتی ہوئی معیشت سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے کرنسی نوٹوں کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیجریوال کے چہرے کا نقاب اب اتر چکا ہے اور اب ان کا اصلی روپ عوام کے سامنے آگیا ہے۔یہ شدید تنقید آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کی ہے۔
اس ضمن میں بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ مودی حکومت کی غلط پالیسیوں اور غلطیوں کی وجہ سے ملک کی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ روپیہ کی قدر دن بہ دن گرتی جارہی ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھورہی ہے۔ بے روزگاری 45 سال کی بلند ترین سطح پر ہے۔ لوگ مایوس ہیں اور ملک میں حکومت کے خلاف غم و غصے کا ماحول ہے۔ماہرین معاشیات ملک کی معیشت کو پٹری پر لانے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف مشورے دے رہے ہیں، لیکن ملک کے وزیر خزانہ یہ کہہ کر ان کا مذاق اڑا رہی ہیں کہ روپے کی قدر میں کمی نہیں ہوئی بلکہ ڈالر مضبوط ہوا ہے۔
اب دہلی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے نرملا سیتا رمن سے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے روپے کی قدر میں کمی کو روکنے کے لیے کرنسی نوٹوں پر لکشمی اور گنپتی کی تصاویر چھاپنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کیجریوال اب گجرات انتخابات سے قبل سیاسی فائدے کے لیے کرنسی نوٹوں اور معیشت کو مذہبی رنگ دے رہے ہیں۔ کیجریوال کو اس سلسلے میں قانون و ضوابط کا علم ہونے کے باوجود وہ اس طرح کا مطالبہ کر کے سلگتے ہوئے مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مہاراشٹر میں بی جے پی کے کچھ لیڈروں نے تو آگے بڑھ کر کرنسی نوٹوں پر مودی کی تصویر چھاپنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ریاست کے ان لیڈروں کی عقل ملک کی معیشت کے ساتھ ساتھ دیوالیہ ہو چکی ہے۔