مودی حکومت کے 8 سالوں میں مہنگائی اور بے روزگاری میں بے تحاشہ اضافہ
صرف مودی کے کاروباری دوست ہی مالامال ہوئے : نانا پٹولے
مودی حکومت کے 8 سالوں میں ملک 50 سال پیچھے چلا گیا
ممبئی:گزشتہ 8 سالوں میں نریندر مودی کی قیادت والی مرکز کی بی جے پی حکومت کی کارکردگی تمام محاذوں پر صفر رہی ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری آسمان کو چھو رہی ہے۔ عوام کے سامنے زندگی اور موت کا بڑا سوال بڑا پیدا ہو گیا ہے۔ بے روزگاری گزشتہ 45 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ ملک کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔وہ یہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات کررہے تھے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ مودی حکومت کے پچھلے آٹھ سالوں میں ملک کے عام لوگوں کی حالت نہایت خراب ہوچکی ہے لیکن مودی کے کاروباری دوست امیر ہوتے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت کی بنیاد جھوٹ پر ہے۔ سال 2014 میں مودی ’اچھے دن‘ کے وعدوں کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، اس وقت انہوں نے عوام سے ڈھیرسارے وعدے کئے تھے لیکن ان وعدوں میں سے آج تک ایک بھی وعدہ پورا نہیں کر پائے۔ مہنگائی پر قابو پانے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن حقیقت میں مہنگائی دوگنی ہوگئی ہے۔ ایل پی جی سلنڈر 450 روپے کا تھا جو اب بڑھ کر ایک ہزار روپے سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔ پیٹرول 65 روپے فی لیٹر تھا لیکن آج 110 روپے فی لیٹر ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی دگنی ہو گئی ہیں۔ ہر سال دو کروڑ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا خواب بھی خواب ہی رہ گیا۔ ملک میں کئی سرکاری آسامیاں خالی ہیں لیکن انہیں پر نہیں کیا جا رہا۔ ریلوے میں 72 ہزار آسامیاں ختم کر دی گئی ہیں۔ تقریباً 4 کروڑ مرداپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جب کہ تقریباً 1.25 کروڑ خواتین کو بھی اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھوناپڑا ہے ۔
نانا پٹولے نے کہا کہ مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر بڑا اثر پڑا ہے۔ وہیں جن کمپنیوں نے ہندوستان میں سرمایہ کاری کی تھی وہ بھی دیوالیہ ہو چکی ہیں۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے غلط نفاذ کی وجہ سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ کورونا وبا نے مودی سرکار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ صحت کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ کورونا کے خوفناک بحران کے دوران جہاں لوگوں کو مشکلات کا سامنا تھا، وہیں مودی سرکار لوگوں سے مدد کرنے کے بجائے تالیاں اور تھالیاں بجوانے میں لگی ہوئی تھی۔ دنیا نے دریائے گنگا میں ہزاروں لاشیں تیرتی دیکھیں، لیکن مودی سرکار کو نظر نہیں آئی۔ آٹھ سالوں میں مودی حکومت نے نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے ایک بھی بڑا پروجیکٹ نہیں بنایا، لیکن گزشتہ 70 سالوں میں کانگریس حکومتوں کے ذریعے بنائی گئی منافع بخش پبلک کمپنیوں کوکوڑیوں کے بھاوٴ میں اپنے صنعتکار دوستوں کو بیچ رہی ہے ۔ ان کمپنیوں کی نجکاری کے ذریعے ملازمتوں کو ختم کردیا گیا اور ریزرویشن ہٹادیا گیا۔ ملک میں 24 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں۔ مودی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 80 کروڑ لوگوں کو مفت اناج فراہم کیا جا رہا ہے جسے کسی طور مستحسن نہیں کہا جاسکتابلکہ یہ ملک میں غریبوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا نتیجہ ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ آٹھ سالہ پرانی مودی حکومت نے اپوزیشن کے لیڈروں کو خاموش کرنے کے لیے مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کاصرف غلط استعمال کیا ہے۔ مندر اور مسجد جیسے مذہبی مسائل کو اٹھا کر بنیادی مسائل کو پس پشت ڈالنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ مذہب کے نام پر سماج میں انتشار پیدا کیا جا رہا ہے۔ مودی سرکار نے لوگوں کو الگ الگ بانٹ کر انگریزوں کی طرح ملک پر حکمرانی شروع کردی ہے۔ تمام آئینی اداروں کی آزادی چھین لی گئی ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ پچھلے 8 سالوں میں ہندوستان ترقی کی طرف بڑھنے کے بجائے 50 سال پیچھے چلا گیا ہے اور یہ مودی حکومت کی حصولیابی ہے۔