کیا اوبی سی کی دولت لوٹ کر مٹھی بھر دوستوں کی جیب بھرنے کے لیے مودی کو اقتدار سونپاگیا تھا؟: ناناپٹولے
سرکاری خزانہ لوٹنے کے لیے دہلی میں اڈانی اور ممبئی میں اجے آشر کو تعینات کیا گیا ہے
ریاست میں شندے-فڈنویس کی حکومت کا کاج گویا’ہم جوکریں وہی قانون‘
ممبئی: ریاست میں جب سے بی جے پی کی قیادت والی حکومت آئی ہے عوام کے پیسوں کی لوٹ کھسوٹ شروع ہے۔ پچھلے 9-10 مہینوں میں شندے فڈنویس حکومت نے صرف عوامی خزانے کوہی لوٹا ہے۔ حکومت کے پاس جی 20 سربراہی اجلاس کے لیے پانی کی طرح بہانے کے لیے پیسہ ہے لیکن کسانوں کے لیے نہیں۔ دہلی میں اڈانی اور ریاست میں اجے آشر سرکاری خزانے لوٹنے کے لیے بٹھائے گئے ہیں۔یہ سنسنی خیزالزام مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے عائد کیا ہے۔ بجٹ اجلاس کی اختتامی تقریب کے بعد مہاوکاس اگھاڑی کی پریس کانفرنس سے وہ خطاب کر رہے تھے۔ اس پریس کانفرنس میں کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات، لیڈر آف اپوزیشن اجیت پوار، قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر امباداس دانوے، شیوسینا لیڈرو سابق وزیر آدتیہ ٹھاکرے اور دیگر موجود تھے۔
اس موقع پر بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی کے اپنے ایم ایل اے نے ہی جس اجے آشر کو ڈاکو کہا تھا، اسی اجے آشر کو شندے فڈنویس حکومت نے سرکاری خزانے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اجے آشرسے اس حکومت کو اتنی محبت کیوں ہے؟اس کے جواب میں حکومت خاموش ہے۔ بہت سے سوالوں کا اس حکومت کے کوئی جواب ہی نہیں دیا۔اس نے انہیں سوالوں کا جواب دیا جو اسے سہولت والے محسوس ہوئے۔ کسانوں کو کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا، نوجوانوں کے مسائل کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ اب نوکری کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کر کے نوجوانوں کو تاریکی میں دھکیل دیا گیا ہے۔ اس حکومت کے وزیر زراعت عبدالستار کا کہنا ہے کہ کسانوں کی خودکشیاں تو ہرروز ہوتی ہیں۔ ایسی بے حس حکومت مہاراشٹر کی تاریخ میں کبھی قائم نہیں آئی۔پٹولے نے کہا کہ اپوزیشن پارٹی کے طور پر ہم نے عوام کے مسائل اٹھائے لیکن اس حکومت نے مسائل کو اس طرح جواب دیا کہ ہم جو کریں وہی قانون ہے۔
ناناپٹولے نے کہا کہ میں 25 سال سے اس ایوان میں ہوں لیکن ایسی حکومت میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ اس حکومت نے عوام کے مسائل کو بالائے طاق رکھ کر عوام کو گمراہ کیا ہے۔ ہم توقع کررہے تھے کہ جن لوگوں نے راہل گاندھی کی تصویرکی توہین کی ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ ہم نے حکومت کے طریقہ کار پر احتجاج کرتے ہوئے آج دن بھر کی ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔ پٹولے نے یہ بھی کہا کہ حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کی آواز کو ہر ممکن طریقے سے دبایا لیکن جمہوریت میں عوام ہی سب کچھ ہوتے ہیں اس لیے ہم اب عوام کی عدالت میں جائیں گے۔
ناناپٹولے نے کہا کہ راہل گاندھی پر اوبی سی طبقے کی توہین کرنے کے نام پر بی جے پی ریاست وملک بھر میں احتجاج کی نوٹنکی کررہی ہے۔بی جے پی کا یہ الزام کہ راہل گاندھی نے او بی سی کی توہین کی ہے مضحکہ خیز ہے اور یہ راہل گاندھی کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو لوٹنے والے وجے مالیا، نیرو مودی، للت مودی، اڈانی او بی سی سے نہیں ہیں۔ بی جے پی ان کرپٹ لوگوں کی حمایت کر رہی ہے۔ عوام جانتے ہیں کہ کون ان چوروں کا ساتھ دے رہا ہے۔ مودی حکومت جی ایس ٹی جیسا گبر سنگھ ٹیکس لگا کر او بی سی کو لوٹ رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی او بی سی برادری کو صرف ووٹوں کے لیے استعمال کرتی ہے اور پھر انہیں بے سہارا چھوڑ دیتی ہے۔ اس لیے بھارتیہ جنتا پارٹی نے او بی سی برادری کے نام پر جو تحریک شروع کی ہے وہ محض ایک چال ہے اور بی جے پی کی یہ تحریک ’الٹا چور کوتوال کوڈانٹے‘ جیسی ہے۔مودی حکومت کے دوران ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری میں زبردست اضافہ ہوا ہے اور او بی سی طبقہ بھی اس سے متاثر ہے۔ او بی سی کے ووٹ لے کر بی جے پی اور مودی حکومت ملک کو منووا دکی طرف لے جارہی ہے۔ مودی خاموش کیوں تھے جب اڈانی ایل آئی سی، اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں لوگوں کی محنت کی کمائی لوٹ رہے تھے؟ کیا یہ پیسہ او بی سی کمیونٹی کا نہیں تھا؟ راہل گاندھی بدعنوان، ظالم مودی حکومت کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں، اسی لیے انہیں بی جے پی حکومت دبا رہی ہے۔ مودی حکومت نے اکثریت کے زور پر لوک سبھا کی ان کی رکنیت منسوخ کرکے جمہوریت کا قتل کیا ہے۔ پٹولے نے یہ بھی کہا کہ مودی حکومت خواہ کتنی ہی آواز کو دبانے کی کوشش کرے، کانگریس پارٹی اس طرح کے دباؤ کے آگے نہیں جھکے گی۔