اقتدار میں آنے کے بعد کانگریس خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن لاگو کرے گی: الکا لامبا
بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ لگانے والی بی جے پی کی ریاستوں میں خواتین کے خلاف مظالم کرنے والے آزاد ہیں
تاریخی بھارت جوڑو نیائے یاترا میں خواتین کو بااختیار بنانے پر زور دیا گیا
ممبئی: آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی کی دور اندیش قیادت نے پنچایت راج میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دے کر سیاست میں خواتین کی شمولیت کو بڑھایا۔ کانگریس پارٹی سیاست میں خواتین کی شمولیت کو بڑھانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ کانگریس نے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں 40 فیصد خواتین امیدواروں کو کھڑا کرکے ایک تاریخی قدم اٹھایا۔ مرکز میں بی جے پی کی حکومت کو خواتین کے ریزرویشن کا فیصلہ لینے میں 10 سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اس پر ابھی تک عمل نہیں ہوا ہے۔ کانگریس کے شعبۂ خواتین کی قومی الکا لامبا نے یقین دلایا ہے کہ اگر کانگریس اقتدار میں آئی تو خواتین کے ریزرویشن کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا۔
کانگریس کی قومی ترجمان اور خواتین کانگریس کی قومی صدر الکا لامبا مہاراشٹر کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے تلک بھون میں میڈیا سے بات کی۔انہوں نے کہا کہ ان تین دنوں میں خواتین کانگریس تنظیم کی مضبوطی، بھارت جوڑو نیا ئےیاترا اور آئندہ لوک سبھا انتخابات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ خواتین کانگریس مہاراشٹر میں لوک سبھا کی 48 سیٹوں میں سے زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ خواتین کو بااختیار بنانے کو ترجیح دی ہے۔ پنچایت راج میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے سے خواتین کی نمائندگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اب مہیلا کانگریس اس بات پر زور دے رہی ہے کہ اسمبلی اور لوک سبھا میں بھی خواتین کی نمائندگی بڑھائی جائے۔ بی جے پی کو خواتین کے ریزرویشن پر فیصلہ لینے میں 10 سال لگ گئے لیکن وہ بھی آدھا ادھورا۔ مرکز میں کانگریس کی حکومت آنے کے بعد ہم اسے مکمل کریں گے۔
الکا لامبا نے کہا کہ بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ لگانے والی بی جے پی کی ریاستوں میں خواتین کے خلاف مظالم کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں۔خواتین کھلاڑیوں کا جنسی استحصال کرنے والے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ ابھی تک پولیس کی گرفت سے باہر ہیں ۔حالانکہ مقدمہ درج ہوئے 6 ماہ گزرگئے ہیں لیکن ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ وزیر اعظم کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں ایک طالبہ کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی، مجرموں کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ ان مجرموں نے مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی مہم میں بھی حصہ لیا تھا۔ بعد میں لوگوں کا غصہ دیکھ کر کارروائی کی گئی۔ بی جے پی حکومت نے گجرات میں بلقیس بانو کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور قتل کرنے والے 11 مجرموں کو رہا کردیا تھا ۔ ہریانہ حکومت نے خاتون سے ریپ کرنے والے رام رحیم بابا کو 9 بار پیرول پر رہا کیا ہے۔ خواتین کو ہراساں کرنے کے معاملے میں بی جے پی سے وابستہ سندیپ سینی کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ منی پور میں قبائلی خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ منی پور 8 ماہ سے جل رہا ہے لیکن وزیر اعظم منی پور کی بات نہیں کر رہے ہیں اور وہاں نہیں جا رہے ہیں۔ بی جے پی کے گزشتہ دو سالوں میں ملک بھر میں تقریباً 10 لاکھ خواتین لاپتہ ہو چکی ہیں، جن میں مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش میں لاپتہ خواتین کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ آخر یہ سب عورتیں کہاں غائب ہو گئی ہیں؟ یہ ایک سنجیدہ سوال ہے۔ بی جے پی حکومت میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
الکا لامبا نے کہا کہ رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھارت جوڑو نیا ئےیاترا منی پور سے شروع کی اور یہ سفر ممبئی میں ختم ہوگا۔ انصاف کے اس سفر میں خواتین کو انصاف کی فراہمی بھی شامل ہے۔ اس سفر میں ان خواتین کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی جن کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔ الکا لامبا نے کہا کہ بھارت جوڑو نیا یاترا تاریخی ہے اور اسے شمال مشرقی ہندوستان میں لوگوں کی طرف سے زبردست حمایت مل رہی ہے، اس لیے آسام کی بی جے پی حکومت اس سے پریشان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یاترا پر حملے کیے جارہے ہیں، لیکن یاترا اب بھی مضبوطی سے جاری ہے اور آگے بھی جاری رہے گی۔اس پریس کانفرنس میں خواتین کانگریس کی ریاستی صدر سندھیا سوالاکھے ، ممبئی خواتین کانگریس کی صدر انیشا باگل، ریاستی نائب صدرنانا گاونڈے، ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے اور بھاونا جین وغیرہ موجود تھے۔