MPCC Urdu News 23 Sep 23

بدزبان بی جے پی ایم پی رمیش بدھوری کو فوری معطل کیا جائے: نسیم خان

رمیش بدھوری نے پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کیا ہے، لوک سبھا اسپیکر خاموش کیوں؟

ممبئی:بی جے پی ممبرپارلیمنٹ رمیش بدھوری نے پارلیمنٹ کے اندر جس طرح کی بدزبانی وبدتمیزی کا مظاہرہ کیا ہے وہ نہ صرف پارلیمنٹ کے ایک رکن بلکہ ملک کی پارلیمنٹ کی بھی توہین ہے۔ بدھوری نے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی کے خلاف جس زبان کا استعمال کیا ہے وہ ملک کی جمہوری روایت کے لیے شرمناک کرنے والا ہے۔ بدھوری نے تمام پارلیمانی روایت کو اپنے پیروتلے روندتے ہوئے ایک رکن پارلیمنٹ کے لیے سڑک چھاپ غنڈے کی زبان استعمال کی ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہوگی۔پارلیمنٹ کے اندربدزبانی وبدتمیزی کے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا رمیش بدھوری کو فوری طور پر معطل کریں۔ یہ مطالبہ سابق وزیر وریاستی کانگریس کے کارگزار صدر نسیم خان نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے کیا ہے۔

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کو لکھے گئے اپنے مکتوب میں نسیم خان نے کہا ہے کہ یہ نہایت افسوسناک ہے کہ سڑکوں پر جھگڑے کے دوران استعمال ہونے والی زبان اب پارلیمنٹ میں داخل ہوگئی ہے۔اس سے صرف پارلیمنٹ کا تقدس ہی پامال نہیں ہواہے بلکہ باہمی عزت واحترام، ایک دوسرے کو تئیں قبولیت اور بھائی چارے کے لیے بھی خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ لوک سبھااسپیکر کو اس معاملے کو نظرانداز یا تنبیہ کرکے چھوڑ نہیں دینا چاہئے۔ اپنے مکتوب میں نسیم خان نے مزید کہا ہے کہ لوک سبھا میں نیرومودی کا نام لینے پر کانگریس کے حزبِ اختلاف لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو معطل کردیا گیا تھا۔حزبِ مخالف کے دیگر لیڈروں کے ساتھ بھی یہ رویہ اپنایا جاتا ہے کہ معمولی باتوں پر انہیں معطل کردیا جاتا ہے۔ راہل گاندھی کوجھوٹے مقدمے میں پھنساکر سزاسنائے جانے کے محض 24گھنٹے میں ہی ان کی پارلیمانی رکنیت کو منسوخ کرنے کی جلدبازی لوک سبھا سکریٹریٹ نے دکھائی تھی۔اب رمیش بدھوری نے رکن پارلیمنٹ کنوردانش علی کومذہب کی بنیاد پر نشانہ بناتے ہوئے انہیں دہشت انتہاپسند کہا ہے۔

نسیم خان نے مزید کہا کہ اس بات میں کوئی حیرت نہیں ہے کہ اس قدر سنگین حرکت کا ارتکاب کرنے والے بدھوری کے خلاف بی جے پی نے کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ کیونکہ بی جے پی کے لیڈر کے جو دل میں تھا وہی اس کی زبان پر آگیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کے لیڈروں کے ذریعے بدتمیزی وغنڈہ گردی کا مظاہرہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔یہ لوگ خود کو سنسکاری کہلاتے ہیں لیکن سنسکار انہیں چھوکر بھی نہیں گزرا ہوتا ہے۔ ان کی بدزبانی وبدتمیزی کے مظاہرے ہرروز کہیں نہ کہیں ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن حد تو اس وقت ہوجاتی ہے جب یہ لوگ اپنی بدزبانی وبدتمیزی کا مظاہرہ پارلیمنٹ میں کرنے لگتے ہیں اور ان کی پارٹی کے دیگر ممبر انہیں روکنے کے بجائے ہنستے رہتے ہیں۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو بدھوری کے خلاف اسی طرح سخت کارروائی کرنی چاہئے جس طرح وہ اپوزیشن پارٹیوں کے ممبران کے خلاف کرتے ہیں۔

Letter to Hon’ble Loksabha Spekar 23.09.2023.pdf