چارہ کیمپ شروع کریں اور جن دیہاتوں میں فوری ضرورت ہو وہاں پانی کے ٹینکرز فراہم کریں
ممبئی: مہاراشٹر کے بیشتر علاقوں میں لوگ ان دنوں شدید خشک سالی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب جبکہ لوک سبھا انتخابات ختم ہوچکے ہیں تو ریاستی حکومت کو خشک سالی پر سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔ ڈیم میں پانی کی کمی کے باعث ہزاروں دیہات اور قصبوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا۔ پانی سے محروم ہر گاؤں میں پینے کے پانی اور جانوروں کے لیے چارے کی سہولیات ہونی چاہئیں۔ ریاستی حکومت سے یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر ضابطہ اخلاق میں نرمی کا فیصلہ کرے اور لوگوں کو پانی کے علاوہ جانوروں کے لیے چارہ بھی فراہم کرے۔
ریاستی کانگریس صدر نانا پٹولے نے مزید کہا کہ ریاست کے دیہی علاقوں میں مائیں اور بہنیں پانی کے لیے ترس رہی ہیں۔ جانوروں کے لیے چارہ نہیں ہے۔ بہت سے شہروں کو ہر 10 یا 12 دن میں ایک بار پانی ملتا ہے۔ مراٹھواڑہ میں صورتحال بہت سنگین ہے۔ چارے کی قلت نے ڈیری فارمرز کے لیے بڑا بحران پیدا کر دیا ہے۔ ہم نے ریاستی حکومت کو چار مہینے پہلے بتا یا تھا کہ لوگوں کو زبردست خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن بی جے پی-شندے-اجیت پوار حکومت اپنی لڑائی اور دوسری پارٹیوں کو توڑنے میں مصروف تھی۔ حکومت اور انتظامیہ لوک سبھا انتخابات میں مصروف ہوگئی لیکن اب انتخابات ختم ہونے کے بعد ریاستی حکومت کو فوری طور پر پانی اور چارہ فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
پٹولے نے کہا کہ مویشی پالن اور ڈیری ڈیولپمنٹ کے وزیر رادھا کرشن ویکھے پاٹل کہتے ہیں کہ ریاست میں 45 دنوں کے لیے کافی چارہ دستیاب ہے۔ اگر چارہ دستیاب ہے تو بدعنوان مہایوتی حکومت اسے تقسیم کرنے کے لیے کس مہورت کا انتظار کر رہی ہے؟ ریاست میں فوری طور پر چارہ کیمپ شروع کیے جائیں۔ غیر موسمی بارشوں نے کسانوں کو پہلے ہی بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور اب انہیں شدید خشک سالی کا سامنا ہے۔ پٹولے نے کہا کہ کسانوں کو ایک بڑے بحران کا سامنا ہے اور انہیں فوری مدد فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔