الیکشن کمیشن کی غلطیوں کا ووٹروں کو خمیازہ بھگتنا پڑا: جیتندر اوہاڈ

ممبئی: مہاراشٹر میں لوک سبھا انتخابات کے پانچویں مرحلے کی ووٹر لسٹ سے کئی نام غائب تھے، جب کہ الیکشن کمیشن کی بدانتظامی کی وجہ سے کئی ووٹر اپنا حقِ رائے دہی استعمال نہیں کر سکے۔ این س پی- ایس پی کے لیڈر جتیندر اوہاڈ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی غلطی کا خمیازہ ووٹروں کو بھگتنا پڑا ہے۔

جتیندر اوہاڈ نے کہا کہ آسام میں 78 فیصد اور بنگال میں 81 فیصد ووٹنگ ہوئی لیکن مہاراشٹر میں اتنی کم ووٹنگ کرتے ہوئے لوگوں کو کیا ہوا؟ یہ کسی کی سمجھ میں ہی نہیں آیا۔ پولنگ بوتھوں پر پانی نہیں، پنکھے نہیں، بعض مقامات پر مشینیں بند پڑگیں۔ بیشتر پولنگ بوتھوں پر ووٹروں کو پریشانیاں اٹھانی پڑیں۔ کلوا ممبرا کے ایم ایل اے کے طور پر میں نے یہ بات علانہ کہہ رہا ہوں کہ یہ الیکشن کمیشن کی مکمل ناکامی ہے۔

مجتیندر اوہاڈ نے کہا کہ یہ سب الیکشن کمیشن کی نااہلی کی وجہ سے ہوا ہے۔ ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ لوگ ووٹ ڈالنا چاہتے تھے لیکن ووٹر لسٹ میں ان کا نام نہیں تھا۔ ایک مشین پر ووٹ ڈالنے کے لیے 1500 افراد کی فہرست تیار کی گئی ہے جبکہ 500 سے 750 افراد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ پتہ نہیں الیکشن کمیشن نے اس بار ایسا کیوں کیا۔ فرض کریں کہ 1500 میں سے ساٹھ فیصد لوگ ووٹ ڈالنے گئے تو 900 لوگ۔ 1500 افراد کے لیے ایک مشین پہلے دو مشینیں دی گئی تھیں۔ اس بار ہر جگہ ایک ہی مشین ہے۔ اس لیے ووٹنگ مکمل نہیں ہو سکی۔ یہ حقیقت ہے کہ لوگ ووٹ ڈالنے میں چار گھنٹے لگتے تھے۔

جتیندر اوہاڈ نے کہا کہ ہمارے پاس 12 لوگ تھے جو قطار میں بے ہوش ہو گئے۔ ہسپتال لے جاؤ، علاج کرو، میں یہ باتیں صرف کلوا ممبرا سے متعلق کہا تھا۔ ریاست میں ہر جگہ ایسی خبریں ہیں۔ الیکشن کمیشن کو اس کی جانچ کرنی چاہیے 1500 لوگوں کی فہرست کس کے حکم پر بنائی گئی۔ ایک اور منظر نامہ یہ ہے کہ اگر ایک عمارت ہے اور ایک خاندان میں پانچ افراد ہیں، تو پانچوں افراد مختلف بوتھوں پر ووٹ ڈالتے ہیں۔یہ بھی بہت جگہ ہوا ہے۔ ای وی ایم مشینوں کو کس طرح سست کیا گیا؟ اس کی انکوائری ہونی چاہئے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading