MPCC Urdu News 21 April 25

’جل جیون یوجنا‘ میں ہزاروں کروڑ کے اخراجات کے باوجود مہاراشٹر پیاسا ہی رہا: ہرشوردھن سپکال

مادھو بھنڈاری کی بھی تہور رانا کے ساتھ تحقیقات کی جائے: کانگریس کا مطالبہ

’بنچ آف تھاٹس‘ کا نظریہ نافذ کیا جا رہا ہے، ہندی کی جبری مسلط مراٹھی ثقافت مٹانے کی سازش ہے

نئی دہلی/ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرشوردھن سپکال نے مرکز کی ’جل جیون مشن‘ اسکیم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بدعنوانی کے باعث ہزاروں کروڑ روپے خرچ ہونے کے باوجود ریاست مہاراشٹر آج بھی پیاسا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس اسکیم کے تحت نل کا خرچ 30 ہزار سے بڑھ کر 1 لاکھ 37 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جس پر مرکزی وزارتِ خزانہ نے وضاحت طلب کی ہے۔

تِلک بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کے ہر گھر میں نل کے ذریعے صاف پانی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن 2025 تک بھی یہ وعدہ حقیقت نہ بن سکا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی خواتین کو پانی کی تلاش میں میلوں چلنا پڑتا ہے اور کئی مقامات پر خواتین کی جانیں بھی چلی گئی ہیں۔ یوتمل ضلع میں ایک لڑکی پانی لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئی جبکہ ناسک میں خواتین کو پانی کے لیے کنوؤں میں اترنا پڑتا ہے، جس سے ’جل جیون مشن‘ کی زمینی حقیقت اور اس میں پھیلی بدعنوانی ظاہر ہوتی ہے۔

سپکال نے دعویٰ کیا کہ اس اسکیم سے فائدہ صرف افسران اور ٹھیکیداروں کو ہوا، عام عوام آج بھی پانی کے لیے ترس رہی ہے۔ مزید برآں، مرکزی حکومت نے اب اس اسکیم کے بجٹ میں 47 فیصد کی بھاری کٹوتی کر دی ہے، جس کے باعث آئندہ برسوں میں بھی پانی کے مسائل برقرار رہیں گے۔

سپکال نے بی جے پی کے ترجمان مادھو بھنڈاری کے 26/11 ممبئی حملے سے متعلق بیان پر بھی سخت اعتراض کیا اور ان کی گرفتاری اور تہور رانا کے ساتھ ان کی تفتیش کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مادھو بھنڈاری کا بیان سنگین ہے اور اس کے مطابق اُس وقت کی حکومت میں شامل کئی افراد آج بی جے پی میں ہیں، جن میں اجیت پوار بھی شامل ہیں۔ لہٰذا اجیت پوار کو کابینہ سے برطرف کر کے ان کی بھی تفتیش کی جائے۔

سپکال نے الزام لگایا کہ پہلی جماعت سے ہندی کو لازمی قرار دینا مراٹھی زبان اور ثقافت کو مٹانے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے رہنما ایم ایس گولوالکر کی کتاب ’بنچ آف تھاٹ‘ میں جو نظریہ پیش کیا گیا تھا، آج اس پر حکومت عمل کر رہی ہے۔ سپکال نے مطالبہ کیا کہ اگر بی جے پی کو ہندی تھوپنی ہی ہے تو اس کی شروعات گجرات سے کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ تین زبانوں کو ایک ساتھ پہلی جماعت سے لاگو کرنا غیر سائنسی ہے اور اس کا بوجھ معصوم طلبہ کیسے برداشت کریں گے؟ زبان مشاورتی کمیٹی نے بھی اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ فڑنویس نے اس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے، لیکن ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ فوراً واپس لیا جائے۔

صحافیوں کے ایک سوال کے جواب میں سپکال نے کہا کہ کانگریس نے سَنگرام تھوپٹے کو اسمبلی اسپیکر کے لیے نامزد کیا تھا، مگر اُس وقت فڑنویس حکومت نے انتخابات ہی نہیں ہونے دیے، جس سے تھوپٹے کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ اب وہ جن لوگوں نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا، انہی کے ساتھ جا رہے ہیں، جو کہ ایک افسوسناک فیصلہ ہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading