• 425
    Shares

گورنر کے کندھے پر بندوق رکھ کر بی جے پی سیاست کررہی ہے

مراٹھا ریزرویشن دینے کا اختیار مرکز کے پاس، بی جے پی مراٹھابرادری کوگمراہ کررہی ہے

ممبئی: مہاوکاس اگھاڑی حکومت چاہتی ہے کہ اسمبلی اسپیکر کا انتخاب آنے والے اسمبلی اجلاس کے دوران ہی ہو لیکن اس معاملے میں بی جے پی گورنر کے کندے پر بندوق رکھ کر اپنی سیاست کررہی ہے جس کی ہمیں ذرا بھی پرواہ نہیں ہے۔ کورونا کے پیشِ نظر ممبرانِ اسمبلی کی جانچ کے بعد ہی صورت حال واضح ہوسکے گی۔ اس لئے وزیراعلیٰ نے گورنر کوروانہ کئے مکتوب میں جوموقف اختیار کیا ہے وہ انتہائی مناسب ہے۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہیں۔وہ کانگریس کے دفتر تلک بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اسمبلی کا اسپیکر کانگریس پارٹی کا ہی ہوگا، اس معاملے میں مہاوکاس اگھاڑی کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی اپنے ممبرانِ اسمبلی کی آراء معلوم کرنے کے بعد پارٹی سربراہان سے مشورہ کے بعد امیدوار کا اعلان کرے گی۔ پٹولے نے کہا کہ مہاوکاس اگھاڑی کی تینوں پارٹیوں کو اپنے اپنے ممبرانِ اسمبلی پر مکمل اعتماد ہے اس لئے حزبِ مخالف کا یہ کہنا کہ تعداد کم ہونے کے خوف سے وہیپ جاری کیا گیا ہے، غلط ہے۔ وہیپ جاری کرنا ایک روایت ہے، اس میں کچھ نیا نہیں ہے۔

ریاست کے مجوزہ زرعی قانون پر بات کرتے ہوئے پٹولے نے کہا کہ کسانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاست کے زرعی قانون کو جلد بازی میں نہیں بنایا جانا چاہئے۔ کانگریس پارٹی اور مہاویکاس اگھاڑی حکومت کابھی یہی موقف ہے کہ ریاست کے کسانوں کے مفادات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور خامیوں سے پاک قانون بنایا جانا چاہئے اور وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کا بھی یہی موقف ہے۔ ہم مرکزی حکومت کے ذریعہ لائے گئے تینوں سیاہ زرعی قوانین کے مخالف کرتے ہیں۔ مرکز کے زرعی قوانین ریاست میں نافذ نہیں ہوں گے۔ ریاستی حکومت اپنے کسانوں کے لئے خود کا قانون بنائے گی۔ یہ قانون کسانوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا جائے گا۔اس کا مسودہ پہلے عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا اور کسانوں کی رائے لی جائے گی اور ان آراء کی روشنی میں قانون بنایا جائے گا۔

مراٹھا ریزرویشن کے بارے میں ناناپٹولے نے کہا کہ مرکزی حکومت کے ذریعے سپریم کورٹ میں مراٹھا ریزرویشن کے بارے میں داخل کئی گئی نظرثانی کی درخواست کا مسترد ہونے سے یہ واضح ہوگیا کہ ریزرویشن دینے کا حق مرکزی حکومت کو ہی ہے۔ آئین میں 102 ویں ترمیم کے ذریعے مرکز کی مودی حکومت نے ریاستوں کے اختیارات چھین لئے ہیں، اس لئے ریاست کے پاس ریزرویشن دینے کا کوئی اختیار نہیں رہ گیا ہے۔اس کے باوجود سابقہ دیوندرفڈنویس حکومت نے ریزرویشن کا قانون بنایا جو سپریم کورٹ میں نہیں ٹک سکا۔ اس سے بی جے پی کا جھوٹ بے نقاب ہوا ہے اور ان کے پاس اب کہنے کے لئے کچھ نہیں بچا ہے۔ریزرویشن کو ختم کرنا آر ایس ایس کی منصوبہ بند سازش ہے۔ بی جے پی نے مراٹھا برادری نیز اسمبلی کو بھی گمراہ کیا ہے۔ چونکہ مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینا ریاستی حکومت کے اختیار میں نہیں ہے اس لئے مرکزی حکومت مراٹھا برادری کے ساتھ انصاف کرے۔

پٹولے نے کہا کہ بی جے پی اپوزیشن پارٹیوں میں خوف پیدا کرنے کے لئے ای ڈی اور سی بی آئی جیسی مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ ہم ان کے ظلم وناانصافیوں نے نہیں ڈرتے ہیں۔امیت شا ہ کے بیٹے کے بیٹے کی دولت میں نہایت تیزرفتاری سیاضافہ ہوا ہے، ای ڈی اس کی تفتیش کیوں نہیں کررہی ہے؟ نانا پاٹولے نے یہ بھی کہا کہ جوبھی بی جے پی میں شامل ہوتا ہے اس کے تمام پاپ دھودیئے جاتے ہیں اورجو اپوزیشن پارٹیوں میں ہیں انہیں تفتیش کے نام پر ہراساں کیا جاتا ہے جو جمہوریت کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔