راہل گاندھی کے ٹویٹ پر بولنے سے پہلے بی جے پی کے لیڈران وزیر اعظم مودی کا ٹویٹ غور سے دیکھیں
مالوَن میں شیواجی مہاراج کے مجسمے کے گرنے سے ہونے والی توہین پر مودی-فڑنویس کب معافی مانگیں گے؟
ممبئی: شیو جینتی کے موقع پر راہل گاندھی کے کیے گئے ٹویٹ پر بی جے پی کے لیڈران جو ہنگامہ برپا کر رہے ہیں، اس سے پہلے انہیں اپنے اعلیٰ ترین لیڈر وزیر اعظم نریندر مودی کا ٹویٹ غور سے دیکھنا چاہیے اور پھر بولنا چاہیے۔ اگر چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کسی نے کی ہے تو وہ بی جے پی نے کی ہے اور بار بار کی ہے، لہٰذا معافی بھی بی جے پی ہی مانگے۔ بی جے پر یہ حملہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کیا ہے۔
پارٹی دفتر میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے شیوجینتی کے موقع پر ٹویٹ کرکے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ یہی الفاظ انہوں نے مہاتما گاندھی کی جینتی پر بھی استعمال کیے تھے۔ لہٰذا راہل گاندھی کے ٹویٹ پر بی جے پی کے رہنماؤں کو سیاست نہیں کرنی چاہیے۔ مالوَن میں چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے کا افتتاح وزیر اعظم مودی نے کیا تھا۔ یہ مجسمہ بی جے پی کی حکومت نے ہی بنوایا تھا، مگر محض آٹھ ماہ میں وہ گر گیا، جس سے مہاراج کی توہین ہوئی اور کروڑوں شیو بھکتوں کے جذبات مجروح ہوئے، لیکن ابھی تک وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اس پر معافی نہیں مانگی ہے۔ بحرِ عرب میں چھترپتی کا عظیم الشان یادگار بنانے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کے ہاتھوں جَل پوجن بھی کروایا گیا تھا، لیکن ابھی تک اس یادگار کی ایک اینٹ بھی نہیں رکھی گئی۔ اس پر بی جے پی کب معافی مانگے گی؟
اتل لونڈھے نے مزید کہا کہ بی جے پی کے کئی لیڈروں نے بارہا چھترپتی شیواجی مہاراج کی توہین کی ہے۔ اس وقت کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے بھی مہاراج کی توہین کی، مگر بی جے پی کے لیڈروں کو اس پر نہ تو شرم آتی ہے اور نہ ہی وہ معافی مانگتے ہیں، بلکہ اپنے سیاسی مفاد کے لیے مہاراج کے نام کا استعمال کرتے ہیں۔ ایسی ذہنیت کی ہم سخت مذمت کرتے ہیں۔
