اہلیہ دیوی ہولکر کی یادگار پر بلڈوزر چلانا تاریخی ورثے کی توہین

بی جے پی اور نریندر مودی عوام سے معافی مانگیں: ہرش وردھن سپکال

ضلع پریشد انتخابات میں کانگریس’ گھڑی‘ کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں کرے گی، ہم خیال پارٹیوں سے اتحاد ممکن

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ جس طرح تاریخ میں سومناتھ مندر کو نقصان پہنچایا گیا تھا، اسی طرح بی جے پی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کے دور میں وارانسی میں پُنّیہ شلوک اہلیہ دیوی ہولکر کے تعمیر کردہ منی کرنِکا گھاٹ پر بلڈوزر چلا کر ایک عظیم تاریخی اور تہذیبی یادگار کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اہلیہ دیوی کی یادوں کو مٹانے کی کوشش ہے اور اسے مہاراشٹر کی عوام، بالخصوص دھن گر سماج، کبھی قبول نہیں کریں گے۔ سپکال نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر بی جے پی اور وزیر اعظم عوام سے کھلے عام معافی مانگیں۔

تلک بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ایک طرف اہلیہ دیوی ہولکر کی 300ویں جینتی کے نام پر تقاریب اور اخراجات کیے جا رہے ہیں اور دوسری طرف انہی کی یادگاروں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جو کھلا تضاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ منی کرنِکا گھاٹ اور وہاں موجود تاریخی نشانات کو نقصان پہنچانا نہ صرف مذہبی و تہذیبی ورثے کی توہین ہے بلکہ اس سے وابستہ سماجی طبقات کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔ کانگریس اس اقدام کے خلاف جمہوری اور آئینی طریقے سے احتجاج کرے گی اور عوامی سطح پر اس معاملے کو اٹھایا جائے گا۔ او بی سی شعبے کے ریاستی صدر یش پال بھنگے نے کہا کہ اہلیہ دیوی ہولکر نے 1771 میں منی کرنِکا گھاٹ کی تعمیر کرائی تھی اور حالیہ کارروائی میں اس یادگار کو نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق یہ دھن گر سماج کی توہین ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقررہ مدت کے اندر معافی نہ مانگی گئی تو ریاست بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ اس موقع پر یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ دھن گر سماج سے وابستہ بعض بی جے پی لیڈر اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں۔

ضلع پریشد اور پنچایت سمیتی انتخابات کے حوالے سے سپکال نے واضح کیا کہ کانگریس وہاں ہم خیال پارٹیوں سے تعاون کرے گی جہاں اتحاد ممکن ہوگا، مگر ’ گھڑی‘کے ساتھ کسی بھی صورت اتحاد نہیں کیا جائے گا۔ ونچت بہوجن اگھاڑی سے متعلق سوال پر ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ جہاں نظریاتی ہم آہنگی اور زمینی ضرورت ہوگی وہاں تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس اپنی توجہ عوامی مسائل، جمہوریت اور آئینی اقدار کے تحفظ پر مرکوز رکھے گی اور اسی بنیاد پر آئندہ انتخابی فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس کی ریاستی انتخابی کمیٹی کا اجلاس تلک بھون میں منعقد ہوا جس میں انتخابی حکمتِ عملی، امیدواروں کے انتخاب اور زمینی سطح پر تنظیمی تیاریوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں پارٹی کے سینئر لیڈر، سابق وزرائے اعلیٰ، سابق وزرا اور تنظیمی عہدیداران موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading