MPCC Urdu News 17 Nov 22

8

ساورکر کے بارے میں جو تاریخی سچ ہے میں نے وہی کہا ہے

بھارت جوڑو یاترا کو اگر حکومت روکنا چاہتی ہے تو روک دے

بھارت جوڑویاترا ملک کو جوڑنے اورعوام کی آواز سننے کے لیے ہے

اکولہ کے واڈے گاؤں میں راہل گاندھی کا میڈیا کے نمائندوں سے خطاب

اکولہ: بھارت جوڑو یاترا محض ایک یاترا ہی نہیں بلکہ ایک سوچ اور ایک سفر ہے۔ یہ یاترا کسانوں، محنت کشوں، نوجوانوں اور چھوٹے کاروباریوں کے مسائل اور ان کے حالتِ زار سے واقف ہونے کے لیے ہے۔ یہ پدیاترا ملک کو جوڑنے کے مقصد سے نکلی ہے جس سے آپسی محبت وبھائی چارہ کا پیغام دیاجارہا ہے۔ اس کے باوجود اگر اس یاترا کوحکومت روکنا چاہتی ہے توشوق سے روکے۔ یہ باتیں آج یہاں ممبرپارلیمنٹ راہل گاندھی نے کہی ہیں۔

بھارت جوڑو یاترا کے درمیان راہل گاندھی کی یہ چھٹی پریس کانفرنس تھی جو چانی پھاٹا، واڈیگاؤں ضلع اکولہ میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر راہل گاندھی نے کہا کہ ملک میں ایک جانب تعصب ومنافرت کے ذریعے ملک کو جوڑنے کی سوچ ہے تو دوسری جانب آپسی محبت وبھائی چارے کی بنیاد پر ملک کو جوڑنے کی سوچ۔ تعصب اور منافرت سے ملک کمزور ہوتا ہے۔ کثرت میں وحدت ہی اس ملک کی شناخت ہے اور یہ شناخت قائم رکھنے اور ملک کو جوڑنے کے لیے کنیاکماری سے کشمیرتک یہ یاترا جانے والی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مہاراشٹر میں اس پدیاترا کو عوام کا زبردست تعاون مل رہا ہے جس سے مجھے بہت سی باتیں سیکھنے کو مل رہی ہیں۔ مہاتماگاندھی پورا ملک چھوڑکر وردھا میں ہی کیوں رہنا پسند کیے؟ اس کا جواب مجھے ودربھ کی سرزمین پر آکر ملا۔ اصل کانگریس ودربھ،مہاراشٹر میں ہی ہے۔ یہ کانگریس کے نظریات کی سرزمین ہے۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ساورکر کے بارے میں نے جو کچھ کہا ہے اس میں غلط کیا ہے؟ میں نے وہی باتیں کہی ہیں جو تاریخی سچائی ہے۔ راہل گاندھی نے اس موقع پر ساورکر کے ذریعے انگریزحکومت کو لکھاگیا خط بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا اور اس میں سے کچھ حصے پڑھ کر سنائے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ مہاتماگاندی، پنڈت نہرو، سردار پٹیل کو بھی انگریزوں نے کئی برسوں تک جیل میں بند رکھا لیکن انہوں نے انگریزحکومت کو کبھی کوئی خط لکھ کر رہا نہیں ہوئے۔ یہی ان دونوں نظریات کا فرق ہے۔ ایک گاندھی کا نظریہ ہے تو دوسرا ساورکر کا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی والے یہ سوال کررہے ہیں کہ جب بھارت ٹوٹا نہیں ہے تو پھر اسے جوڑنے کا کیا مطلب ہے؟ لیکن گزشتہ ۸ برسوں میں ملک کی فضا مکمل طور پر تبدیل ہوچکی ہے۔ عوام کی آوازنہیں سنی جاتی ہے، کسانوں، نوجوانوں ومحنت کشوں کی آوازحکومت نہیں سنتی ہے۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن کوبولنے نہیں دیا جاتا ہے۔ملک میں بہت سارے مسائل ہیں لیکن ان مسائل کے حل پر حکومت کوئی توجہ نہیں دیتی ہے۔ تعصب، تشدد اور منافرت پھیلاکر خوف کے سائے میں عوام کورکھا جارہا ہے۔ ملک کے آئینی اداروں پر حکومت نے مکمل طور پر قبضہ کرلیا ہے۔ عدلیہ بھی اس سے مبرا نہیں ہے۔ ایسی صورت حال میں عوام کی آواز سننے کے لیے یہ بھارت جوڑو یاترا نکالی گئی ہے۔ اس پدیاترا میں ہرروز ہزاروں لوگ اپنے مسائل، اپنے دل کی بات ہم سے کرتے ہیں، اسی لیے یہ بھارت جوڑو یاترا ہے۔

کسانوں کی خودکشی کے بارے میں بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ کسانوں کی خودکشی یہ صرف ودربھ کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کے کسانوں کا مسئلہ ہے۔ اگر کسانوں کی خودکشی روکنی ہے تو ملک کو غذا فراہم کرنے والے ان کسانوں کی مدد کرنا ضروری ہے۔ ہمیں ان کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے، ان کے مسائل کواپنا مسئلہ سمجھنا چاہئے۔ کسانوں کے مفاد کا تحفظ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یوپی اے حکومت کے دور میں کسانوں کے قرضہ جات کو معاف کرنے کا تاریخی فیصلہ لیا گیا اور اس فصیلے پر عمل بھی کیا گیا۔ لیکن فی الوقت کی مرکز کی بی جے پی حکومت کو کسانوں کی فریاد سنائی نہیں دے رہی ہے، ان کی مدد کرنا تو دور کی بات ہے۔ نوجوانوں کے معاملے میں بھی یہی صورت حال ہے۔ نوجوان تعلیم حاصل کرتے ہیں، تعلیم حاصل کرنے پر خرچ بھی کررہے ہیں، لیکن انجینئرنگ پڑھنے والے طالب علموں کواس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ ان کی انجنیئرنگ کی تعلیم انہیں روزگار دلا پائے گی۔ روزگار نہیں ہے اس لیے نوجوانوں کا مستقبل سیاہ اوران کے خواب چکناچور ہوچکے ہیں۔ ان مسائل کی جانب حکومت توجہ نہیں دیتی ہے اور یہ بات اب عوام کی سمجھ میں آچکی ہے۔

راہل گاندھی نے 40منٹ تک میڈیا کے نمائندوں کے مختلف سوالوں کے جواب دیئے اور میڈیاکے نمائندوں کے ساتھ تصویریں بھی کھنچوائیں۔ اس پریس کانفرنس میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے تنظیمی امور کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، میڈیا شعبے کے سربراہ جئے رام رمیش، مہاراشٹر کانگریس کے انچارج ایچ کے پاٹل، ریاستی کانگریس کے صدر ناناپٹولے، سابق وزیرمحصول بالاصاحب تھورات، آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے سکریٹری ومہاراشٹر کے نائب انچارج آشیش دووا، ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے، ترجمان ڈاکٹر راجوواگھمارے، کپل ڈھوکے، ڈاکٹر سدھیر ڈھونے وغیر موجود تھے۔