مالیگاؤں بم دھماکوں کے ملزمین کو مودی حکومت بچارہی ہے

اے ٹی ایس چیف سے ملاقات کے بعد نسیم خان کا سنسنی خیز الزام

ممبئی: مالیگاؤں بم دھماکہ کے گواہان کے مکرنے سے پیدا شدہ حالات پر سابق وزیر وریاستی کانگریس کے کارگزارصدر نسیم خان نے آج اے ٹی ایس چیف ونت اگروال سے ملاقات کرتے ہوئے مودی حکومت پرسنسنی خیزالزمات عائد کیا ہے کہ مودی حکومت مالیگاؤں بم دھماکوں کے ملزمین کو بچارہی ہے جس کے تحت گواہان پر دباؤ ڈال کر انہیں اپنے سابقہ بیان سے مکرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔انہوں نے اے ٹی ایس کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملزمین کے مکرنے کے معاملے کی وہ اپنے طور پر تفتیش کرتے ہوئے اس کی سچائی کو عدالت کے سامنے لائے۔

اے ٹی ایس چیف سے ملاقات کے بعد اے ٹی ایس دفتر کے باہر میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے نسیم خان نے بتایا کہ اس معاملے کی تفتیش مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ہی کی تھی اور ملزمین کو گرفتار کیا تھا۔ چونکہ عدالت میں اس کی یومیہ بنیاد پرشنوائی چل رہی ہے،اس لئے اے ٹی ایس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گواہان اورثبوت کی بنیاد پر ملزموں کو سزادلانے میں مدد کرے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری اس ملاقات کے بعد نسیم خان مطمئن نظر آئے اور میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اے ٹی ایس چیف نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ قانون کے مطابق جو جو ضروری ہوگا ہم اس پر عمل کریں گے۔ نسیم خان نے این آئی اے کو آٓگاہ گیا کہ اگر مودی حکومت کے اشارے پر مالیگاؤں بم دھماکے کے ملزمین کو بچانے کی کوشش کی تواین آئی اے کے دفتر کا گھیراؤ کرتے ہوئے احتجاج کریں گے۔نسیم خان نے سوال کیا کہ جو این آئی اے 2011میں اے ٹی ایس کی تحقیقات کو صحیح ٹھہرارہی تھی اور دو ملزموں کو مزید گرفتار کیا تھا وہی این آئی اے مرکز میں موودی حکومت کے آنے 2016میں عدالت میں یہ کیسے کہہ سکتی ہے کہ گرفتار شدہ ملزمین کو مقدمے سے بری کیا جائے؟

نسیم خان نے کہا کہ مالیگاؤں 2008دھماکہ معاملے میں اب تک 223گواہوں کی عدالت کے سامنے گواہیاں ہوچکی ہیں جن میں سے اب تک16/گواہان اپنے سابقہ بیان سے مکرچکے ہیں۔یہ تمام گواہان اسی شہر سے تعلق رکھتے ہیں جہاں سے ملزمین کا تعلق ہے۔ اس لئے خدشہ پیدا ہوتا ہے کہ ان گواہان کو جبراً اپنے بیان سے مکرنے پرمجبور کیا جارہا ہے۔ نسیم خان نے کہا کہ مرکز میں مودی حکومت کے قیام کے بعد این آئی اے نے جس طرح اس مقدمے میں ماخوذ دہشت گردوں کو بچانے کی کوشش شروع کی تھی اور جس طرح اس نے سرکاری وکیل روہنی سالین کو ملزمین کے تئیں سختی نہ برتنے کی ہدایت کی تھی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرکز کی مودی حکومت ملزمین کو بچارہی ہے۔ نسیم خان نے کہا کہ مودی حکومت کے اشارے پر ہی این آئی اے نے خصوصی عدالت میں درخواست دائرکرکے پرگیہ سنگھ ٹھاکور واس کے ساتھ دیگر ہندوتواوادی ملزمین کو مقدمے سے بری کرنے کی اپیل کی تھی لیکن عدالت نے اے ٹی ایس کے ذریعے کی گئی تحقیق اور اس کے ذریعے پیش کئے گئے چارج شیٹ ودیگرثبوت وشواہد کی بنیاد پر اس مقدمے کو یومیہ بنیاد پر سماعت شروع کردی ہے۔

Letter to ATS Chief.pdf

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں