مویشیوں کو لمپی وائرس سے بچانے کے لیے ریاستی حکومت فوری فیصلہ کرے

ممبئی:ریاست میں شدید بارش سے ہوئے نقصانات سے ابھی کسان ابھر نہیں پائے ہیں کہ اب لمپی وائرس سے ہورہی مویشیوں کی اموات نے نے کی ان کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ریاست میں ہزاروں جانور لمپی وائرس سے متاثر ہوئے ہیں.

ایسے میں اب حکومت کو اس بیماری سے نمٹنے کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کرتے ہوئے فوری اقدامات کرنے چاہئیں اورجن لوگوں کے مویشی اس بیماری سے مررہے ہیں ان کی مالی امداد کی جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔

اس ضمن میں بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ریاست کے کئی حصوں میں مویشیوں کے لمپی وائرس سے بیمار ہونے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ ایسے میں اس بیماری کوپھلینے سے روکنے اوراس سے نمٹنے کے لیے خصوصی منصوبہ بندی کے ذریعے فوری اقدام کرنا چاہئے۔

اس کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ ICMR سے لمپی پرو ویک اینڈویکسین خریدکر ضرورت کے مطابق اسٹاک تیار رکھنا چاہئے تاکہ اس بیماری سے متاثر ہونے والے مویشیوں کو بچایا جاسکے۔اسی کے ساتھ جانوروں کے علاج کے لیے ضروری دوائیں مرکزی حکومت یا ریاستی حکومت کے ذریعہ کھلے بازار سے جلد از جلد سرکار کو خریدنی چاہئے۔ پٹولے نے کہا کہ اگر اس بیماری پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو ریاست کے جانوروں کو اس کا شدید نقصان پہنچے گا اور کسانوں کو اس کا زبردست خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ مستقبل کے خطرے کے پیش نظر ریاستی حکومت کو اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے، لیکن شندے-فڑنویس حکومت ریاست میں گنیشوتسو میں مصروف تھی اور اب اپنا وقت پراستقبالیہ تقاریب میں وقت صرف کررہی ہے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ موسلا دھار بارش سے کسانوں کو کافی نقصان پہنچا ہے لیکن انہیں ریاستی حکومت کی طرف سے مناسب مالی امداد نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے اعلان کردہ امداد بہت کم ہے اور وہ بھی کسانوں کو ابھی تک ملنا باقی ہے۔ ریاست میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت کسان مخالف ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ ہم تب ہی زندہ رہیں گے جب کسان زندہ رہیں گے۔ کسانوں کو نظر انداز کرنا ہمیں مہنگا پڑ سکتا ہے۔اس لیے ریاستی حکومت کو مویشیوں، ڈیری اور جانوروں کو لمپی بیماری سے بچانے کے لیے موثر اقدامات کرنے پر زور دینا چاہیے۔

وزیراعلیٰ کے جلسے کے لیے سرکاری اور کرائے کی بھیڑ؟

کانگریس کے ریاستی صدر پٹولے نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی میٹنگ میں بھیڑ جمع کرنے کے لیے پیسوں کے تقسیم کی خبر میڈیا میں آئی ہے اور ایک آڈیو کلپ وائرل ہوا ہے۔ ایسا بتایا جا رہا ہے کہ خواتین و بچوں کی فلاح وبہبود کے محکمے نے تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے کہ وزیراعلیٰ کے جلسے میں آنگن واڑی کارکنان، معاونین اور نگراں شریک ہوں۔ پٹولے نے کہا کہ اس قسم کی صورتحال نہایت سنگین ہے اور اس کی جانچ ہونی چاہئے کہ چیف منسٹر کے جلسے کے لئے اس طرح کا تحریری حکم نامہ جاری کرنے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ شندے حکومت کو جلسے میں بھیڑ جمع کرنے کے لیے اس مرحلے تک آنا پڑا ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading