ممبئی: مہاراشٹر صدیوں سے صوفیوں، سنتوں اور عظیم شخصیات کی سرزمین رہی ہے، مگر ایک مخصوص نظریے کے حامل افراد جان بوجھ کر جھوٹ پھیلا رہے ہیں اور تاریخ کو مسخ کرکے سماجی ماحول کو زہر آلود کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چھترپتی شیواجی مہاراج نے تمام ذاتوں اور برادریوں کے مخلص سپاہیوں کے ساتھ مل کر “سوراجیہ” قائم کیا تھا۔ مہاراج نے کبھی کسی سے نفرت نہیں کی، مگر آج انہی کے نام پر سماجی ہم آہنگی کو تباہ کرنے کی بی جے پی کی مذموم کوشش جاری ہے۔ اس سازش کے تحت نیتیش رانے کو آگے کر کے اشتعال انگیز بیانات دلوائے جا رہے ہیں۔ بی جے پی مہاراشٹر میں طالبانی نظام لانے کی گھناؤنی سازش کر رہی ہے، جسے عوام کو پہچاننا ہوگا۔ ، یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہی ہیں۔
ریاست کے ماہی پروری اور بندرگاہ ترقیاتی وزیر نیتیش رانے مسلسل اشتعال انگیز اور مذہبی منافرت کو ہوا دینے والے بیانات دے رہے ہیں۔ اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ یہ وزیر عوام کو بتا رہا ہے کہ انہیں گوشت کہاں سے خریدنا چاہیے اور کہاں سے نہیں۔ کسی کو کیا کھانا چاہیے اور کہاں سے خریدنا چاہیے، یہ فیصلہ عوام کا ہے، کسی وزیر کا نہیں۔ نیتیش رانے بغیر کسی مطالعے اور غور و فکر کے، محض اپنے سیاسی آقا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے زہر افشانی کر رہے ہیں اور سماج میں تفرقہ پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیتیش رانے کے غنڈوں نے اس سے قبل کنکولی میں شیخ اشرف نامی نوجوان کو “جے شری رام” کہنے پر مجبور کیا اور اس پر وحشیانہ تشدد کیا تھا، مگر عدالت کے احکامات کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ نیتیش رانے کھلے عام ایسے بیانات دے رہے ہیں، جو مذہبی منافرت کو بڑھاوا دیتے ہیں اور فسادات کو جنم دے سکتے ہیں، مگر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ سپکال نے سخت سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ریاست کے وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ اور پولیس محکمہ خوابِ غفلت میں ہیں؟
ریاستی کانگریس کے صدر نے کہا کہ نیتیش رانے کا دعویٰ ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی فوج میں کوئی بھی مسلمان شامل نہیں تھا۔ یہ بیان ان کی لاعلمی، بے بنیاد تاریخ فہمی اور نفرت انگیز ایجنڈے کا عکاس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہاراج کی فوج میں نہ صرف مسلم سپاہی موجود تھے بلکہ اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز تھے۔ سرنواب نُور خان بیگ فوج کے اہم کمانڈر تھے۔ توپ خانے کے سربراہ ابراہیم خان تھے۔ ابراہیم سِدّی مہاراج کے محافظ دستے میں شامل تھے۔ قاضی حیدر مہاراج کے وکیل تھے۔ جب مہاراج کو آگرہ میں قید کیا گیا تو ان کے وفادار خدمت گاروں میں مداری مہتر بھی شامل تھے، جنہوں نے ان کی رہائی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ صرف چند نام ہیں، حقیقت یہ ہے کہ چھترپتی شیواجی مہاراج کی فوج اور دربار میں مختلف مذاہب اور برادریوں کے افراد شامل تھے، کیونکہ مہاراج کسی ایک مذہب کے نہیں، بلکہ تمام ہندوستانیوں کے رہنما تھے۔
ہرش وردھن سپکال نے الزام لگایا کہ نیتیش رانے مسلسل دستورِ ہند اور قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ وہ ہر روز اشتعال انگیز بیانات دے کر سماج میں تفریق پیدا کر رہے ہیں۔ ایسے شخص کو ریاست کے کابینہ میں جگہ دینا شرمناک ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ نیتیش رانے کے بیانات کی حمایت نہیں کرتے تو انہیں فوراً کابینہ سے برطرف کریں۔
ہرش وردھن سپکال نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی کی اس خطرناک سیاست کو سمجھیں۔ بی جے پی سماج میں نفرت اور انتشار پیدا کر نا چاہتی ہے۔ ہمیں مہاراشٹر کی شاندار ثقافتی وراثت، مذہبی ہم آہنگی اور چھترپتی شیواجی مہاراج کے اصل نظریے کی حفاظت کرنی ہوگی۔