MPCC Urdu News 11 Nov 22

9

راہل گاندھی پراعتماد کی وجہ سے پدیاترا میں لوگوں کا زبردست ہجوم ہورہا ہے: کنہیاکمار

ملک میں زبردست بیروزگاری کے باوجود صرف امیت شاہ کا بیٹا ہی برسرِروزگار

بھارت جوڑویاترا میں شامل لوگوں کے استقبال کے لیے پھول بچھائے گئے

شیوسینا کے نوجوان لیڈر اور سابق ریاستی وزیر آدتیہ ٹھاکرے کی بھارت جوڈو یاترا میں شرکت

ناندیڑ:اس ملک کی شناخت تنوع میں اتحاد ہے لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے اس شناخت کو مٹایا جارہا ہے۔ سماج میں نفرت کا بیج بوکر بی جے پی ایک دوسرے کو آپس لڑا رہی اور سیاسی فائدہ حاصل کررہی ہے۔ ملک میں مہنگائی وبیروزگاری کا مسئلہ سنگین ہونے کے باوجود مرکز کی بی جے پی حکومت اس جانب توجہ نہیں دے رہی ہے۔ عوام کو اس نے بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔ اس طرح کے مخالف حالات میں بھارت جوڑو یاترا کے ذریعے ملک کوجوڑنے کے لیے نکلنے والے راہل گاندھی سے ہی لوگوں کو امیداور توقع ہے اور اسی اعتماد کی وجہ سے بی تعداد میں لوگ ان کے ساتھ جڑرہے ہیں۔ یہ باتیں آج یہاں کانگریس کے لیڈر کنہیاکمار نے کہی ہیں۔ وہ یہاں میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کررہے تھے۔

ناندیڑ ضلع کے اردھا پور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کنہیا کمار نے بھارت جوڑو یاترا کے مقصد کی وضاحت کی اور ملک کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پدایاترا میں شریک لوگ اپنی روزمرہ کی زندگی میں درپیش مسائل کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔کسانوں کو گنے کی قیمت نہیں مل رہی ہے، زرعی پیداوار کا دام نہیں مل رہا ہے۔نوجوانوں کی حالت یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود انہیں روزگار نہیں مل رہا ہے۔ دوسری جانب قانون کو طاق میں رکھ کر امیت شاہ کے بیٹے کو نوکری دی جارہی ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں میں زبردست ناراضگی ہے۔ نوجوانوں کو اس بات کا دکھ ہے کہ بی جے پی حکومت ان کے خوابوں کو چکنا چور کر رہی ہے۔ کنہیاکمار نے مزید کہا کہ مہنگائی نے خواتین کے کچن کے بجٹ کو تباہ کر دیا ہے۔ جان لیوا مہنگائی میں جینا مشکل ہو گیا ہے۔ جہاں عوام کے یہ مسائل ہیں، وہیں مرکز کی بی جے پی حکومت ان بنیادی مسائل کے حل پر ذرا بھی توجہ نہیں دے رہی ہے۔وہ ان بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے دیگر مسائل کو اچھال رہی ہے۔ حکومت عوام کی نہیں سن رہی ہے لیکن راہل گاندھی عوام کے مسائل، درد اور تکالیف کو سن رہے ہیں۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ کوئی ان کا دکھ سننے آیا ہے۔

کنہیاکمار نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کا مقصد خالص اور صاف ہے اوروہ یہ کہ ملک کو تباہ کرنے والی طاقتوں کو عوام کے ساتھ مل کر جواب دیا جا رہا ہے جس کی زبردست پذیرائی بھی مل رہی ہے۔ اس یاترا کا مقصد صرف الیکشن جیتنا نہیں بلکہ عوام کو اعتماد دلانا اور ملکی اتحاد کو برقرار رکھنا بھی ہے۔ لوگ اب سمجھ گئے ہیں کہ آپس میں لڑنے کے بجائے ہمیں مہنگائی اور بے روزگاری سمیت جن مسائل کا سامنا ہے ان کو حل کرنے کے لیے لڑنا چاہیے۔اس پریس کانفرنس میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے بھی موجود تھے۔

دریں اثناء راہل گاندھی اور بھارت جوڑویاترا میں شامل لوگوں کا استقبال کرنے کے لیے ناندیڑ کے شہر اردھاپور میں عوام کا غیرمعمولی جوش وخروش نظر آیا۔ بھارت جوڑویاتریوں کا خیرمقدم کے لیے لوگوں نے دو کنٹل پھولوں سے پوری سڑکو سجادیا تھا۔ اس زبردست استقبال کو دیکھ کر یاترا میں شامل لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔ ناندیڑ ضلع میں لوگوں کے اس غیرمعمولی تعاون، زبردست جوش وخروش اور والہانہ استقبال کے بعد یہ بھارت جوڑو یاتر شام کو ناندیڑ سے نکل کر ہنگولی ضلع میں داخل ہوگئی۔

بھارت یاتریوں کی راہوں میں پھول بچھانے والوں سے جب اس والہانہ استقبال کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ملک کے آئین کو بچانے کے لیے، آپ کے، ہمارے اور ہمارے بچوں کے مستقبل کے لیے راہل گاندھی کنیاکماری سے کشمیرتک پدیاترا نکالے ہوئے ہیں۔ ان پر اپنے اعتماد ظاہر کرنے اور ان کے احترام کے اظہار کے لیے ہم نے ان کی راہوں میں یہ پھول بچھایا ہے۔ اس لیے یہ پھول نہیں بلکہ ہمارے جذبات ہیں جو ہم نے راہل گاندھی کی راہوں میں بچھائے ہیں۔ ون رینک ون پینشن کا مطالبہ کرتے ہوئے مدکھیڑ میں 22سابق فوجیوں نے سڑکوں کے کنارے کھڑے ہوکر زورزور سے اپنا مطالبہ دہرارہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارااس بات پر یقین ہے کہ ہمارا یہ مطالبہ صرف کانگریس پارٹی ہی پوری کرسکتی ہے۔اسی لیے ہم راہل گاندھی کی حمایت کے لیے یہاں آئے ہیں۔