ریاست کی مہایوتی حکومت برخاست کرتے ہوئے صدر راج نافذ کیا جائے: نانا پٹولے

ممبئٰ:خشک سالی کی وجہ سے ریاست کا زندہ رہنا مشکل ہو رہا ہے لیکن ریاست کی مہایوتی حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے اور وہ اسے سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران ریاست میں 267 کسانوں نے خودکشی کی اور انتخابات کے بعد بھی ان میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ ڈی بی ٹی کے ذریعے کسانوں کو فراہم کی جانے والی کھاد، بیج، ادویات نہیں دی گئی ہیں۔ ٹینڈر جاری کیے بغیر وزیراعلیٰ کے حکم پر اونے پونے داموں پر کروڑوں روپے کی خریداری کی گئی اور اس پر اعتراض کرنے والے ایگریکلچر کمشنر کو سائیڈ لائن کردیا گیا۔ حکومت نے ریاست میں ٹینکر مافیا تیار کر رکھا ہے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے مطالبہ کیا ہے کہ بدعنوانی میں سر سے پیر تک غرق مہایوتی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرتے ہوئے ریاست میں صدر راج نافذ کیا جائے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے کی قیادت میں کانگریس کے ایک وفد نے ریاست کے گورنر رمیش بیس سے ملاقات کی اور ریاست میں خشک سالی اور مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ اس وفد میں ریاستی ورکنگ صدر و سابق وزیر نسیم خان، سابق وزیر یشومتی ٹھاکر، شوبھا بچھاؤ، وسنت راؤ چوہان، بلونت وانکھیڑے، موہن ہمبرڈے، وجاہت مرزا، دھیرج لنگاڈے، ایم ایل اے مادھو راؤ پاٹل کھیگاؤںکر، سابق ایم ایل اے ویریندر جگتاپ، ریاستی نائب صدر سنجے راٹھوڑ، این ایس یو آئی کے ریاستی صدر امیر شیخ، ریاستی جنرل سکریٹری مناف حکیم، راجیش شرما، رمیش شیٹی، رمیش کیر، پرمود مورے، سکریٹری ذیشان احمد، امراؤتی ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر انیرودھ عرف ببلو دیش مکھ، پرمود ڈونگرے، سندیپ پانڈے، آکاش جادھو، ڈاکٹر گجانن دیسائی، دھنراج راٹھوڑ اور مدن جادھو وغیرہ موجود تھے۔

گورنر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ جب ریاست کو شدید خشک سالی کا سامنا تھا تو حکومت چھٹیوں پر چلی گئی تھی جب کہ کچھ وزراء اس وقت بیرون ملک گئے تھے۔ وزراء کو بیرون ملک جانے کے لیے مرکزی حکومت سے اجازت لینا ہوتی ہے، ان وزراء نے کس کی اجازت لی تھی اس کی وضاحت ہونی چاہئے۔ ناناپٹولے نے کہا کہ کسان مشکل میں ہیں اور انہیں مدد کی ضرورت ہے۔ ریاست میں خشک سالی کی صورتحال کے پیش نظر کانگریس پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کا قرض معاف کیا جائے اور خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو فی ایکڑ 4 لاکھ روپے دیے جائیں۔ جانوروں کے لیے چارہ کیمپ شروع کیے جائیں اور پینے کا پانی مہیا کیا جائے۔ ریاست میں کھاد کی کالا بازاری جاری ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ خریف کی بوائی کے لیے کھاد اور بیج فراہم کیے جائیں۔

چھترپتی شیواجی مہاراج، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر، مہاتما پھلے کے ساتھ ہماری عقیدت وابستہ ہے۔ بی جے پی حکومت نے پارلیمنٹ کے احاطے میں ان عظیم شخصیات کے مجسموں کو ہٹا دیا گیا ہے۔ ہم اپنے ان عظیم شخصیات کی توہین قطعی برداشت نہیں کریں گے۔

عزت مآب گورنر سے ملاقات کے دوران پوئی کے بھیم نگر جھوپڑپٹی پر غیر قانونی کارروائی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ بلڈر ہیرانندانی کے لیے حکومت نے غریبوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ یہ کارروائی حکومت، انتظامیہ اور بلڈر کی ملی بھگت سے کی گئی ہے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ ایک اصول ہے کہ مانسون کے موسم میں اس طرح کی کارروائی نہیں کی جانی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے اس طرح کی ہدایات دی ہیں اس کے باوجود کارروائی کی گئی۔

اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے ریاستی کارگزار صدر نسیم خان نے کہا کہ 6 جون کو پولیس نے زبردستی لوگوں کے گھر میں گھس کر خواتین، بزرگ شہریوں اور بچوں کو بھی مارا پیٹا۔ میونسپل حکام اور پوئی پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں نے ایک بلڈر کے لیے تین نسلوں سے رہنے والے تقریباً 650 خاندانوں کو بے دخل کیا۔ ان تمام کنبوں کو اسی جگہ پر آباد کیا جائے، انہیں معاوضہ دیا جائے اور غیر قانونی کارروائی کرنے والے میونسپل افسران، پولیس اور بلڈروں کے خلاف ایس سی اور ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے معطل کیا جائے۔

Governor Memorandum 11 Jun 2024 (1).pdf

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading