’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ نہیں بلکہ ’بی جے پی سے بیٹی بچاؤ‘: ہرش وردھن سپکال
پنویل/ممبئی،: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو پارٹی خود کو ’پارٹی ود ڈیفرنس‘ کہتی ہے، وہ دراصل اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی میں غنڈوں، مافیاؤں اور مجرموں کو نہ صرف جگہ دی جاتی ہے بلکہ اب تو عصمت دری جیسے سنگین جرائم کے ملزموں کو بھی سیاسی عہدوں سے نوازا جا رہا ہے۔ بدلاپور میں کمسن بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے معاملے کے ملزم کو بی جے پی کی جانب سے نامزد کونسلر بنانا اسی گراوٹ کی واضح مثال ہے۔ سپکال نے کہا کہ بی جے پی کا نعرہ ’بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ‘ محض کھوکھلا دعویٰ ہے، زمینی حقیقت یہ ہے کہ ’بی جے پی سے بیٹی بچاؤ‘ کا نعرہ لگانا پڑ رہا ہے۔
پنویل میں انتخابی مہم کے دوران ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ اتر پردیش کے اناؤ عصمت دری کیس میں بی جے پی کا رکنِ اسمبلی ملزم رہا ہے، اتراکھنڈ کے انکیتا بھنڈاری معاملے میں بھی بی جے پی سے جڑے بااثر افراد کے نام سامنے آئے، بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے والی خواتین کھلاڑیوں کے جنسی استحصال کے معاملے میں بی جے پی کے ایک رکنِ پارلیمنٹ کا نام آیا اور اب کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی کے ملزم کو بلدیاتی سیاست میں جگہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے تمام سماجی قدریں اور اخلاقی حدود روند ڈالی ہیں۔
ہرش وردھن سپکال نے الزام لگایا کہ اقتدار کے لیے بی جے پی اور ایکناتھ شندے کی شیوسینا کسی سے بھی ہاتھ ملانے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امبرناتھ میں کانگریس کے 12 کونسلروں نے پارٹی کے علم میں لائے بغیر بی جے پی کی حمایت کی، جس پر کانگریس نے فوری طور پر انہیں پارٹی سے نکال دیا، لیکن بی جے پی نے انہیں اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ اسی طرح اکوٹ میں اویسی کی جماعت ایم آئی ایم کے ساتھ اتحاد کیا گیا اور شندے سینا نے بھی ایم آئی ایم سے سمجھوتہ کیا۔ ایک طرف انتخابی مہم میں ’خان میئر ہوگا یا نہیں‘ جیسے نعرے لگا کر مذہبی کشیدگی پیدا کی جاتی ہے اور دوسری طرف اقتدار کے لیے انہی پارٹیوں سے گٹھ جوڑ کیا جاتا ہے۔ سپکال نے کہا کہ حیدرآباد کا داڑھی والا اور تھانے کا داڑھی والا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور عوام اب اس منافقانہ سیاست کو بخوبی سمجھ چکے ہیں۔
نوی ممبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نام سے متعلق سوال پر سپکال نے کہا کہ کانگریس پارٹی اور مقامی عوام مسلسل مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ ہوائی اڈے کو عوامی رہنما ڈی بی پاٹل کا نام دیا جائے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے خود کہا تھا کہ پہلی پرواز کے ساتھ ہی ’ڈی بی پاٹل ایئرپورٹ‘ کا اعلان ہوگا، مگر تاحال ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے اسے بی جے پی کی ہٹ دھرمی قرار دیا اور چیلنج دیا کہ جیسے ہی انتخابی ضابطۂ اخلاق ختم ہو، اسی کے اگلے دن ہوائی اڈے کو ڈی بی پاٹل کا نام دینے کا باضابطہ فیصلہ کیا جائے اور فڈنویس اس کا اعلان پنویل کی اسی عوامی نشست میں کریں۔
اس موقع پر شیتکری کامگار پارٹی کے لیڈر اور سابق رکنِ اسمبلی جینت پاٹل، کانگریس کے سینئر لیڈر آر سی گھرت، سابق رکنِ اسمبلی بالارام پاٹل، ریاستی کانگریس کے جنرل سیکریٹری و پنویل انچارج سید ذیشان احمد، پنویل کانگریس کے ضلع صدر سدام پاٹل، شروتی مہاترے سمیت مہاوکاس اگھاڑی کے کئی لیڈر اور عہدیداران موجود تھے۔