گرام پنچایت الیکشن میں کانگریس کی 721سیٹوں پر جیت، ایم وی اے1312پرکامیاب: ناناپٹولے
ناگپورپوری ریاست میں مہایوتی ایم وی اے سے پیچھے، بی جے پی گرکر بھی ٹانگیں اوپرکیے ہوئے ہے
اگر ہمت ہے تو بلدیاتی انتخابات کروا کر دکھائیں
ممبئی:پیر کو ریاست کی 2 ہزار 320 گرام پنچایتوں کے ووٹوں کی گنتی ہوئی۔ اس الیکشن میں کانگریس پارٹی نے اب تک 589 گرام پنچایتوں میں فتح کا جھنڈا لہرایا ہے، جب کہ کانگریس کی نظریات کے مقامی اتحاد نے 132 گرام پنچایتوں میں کامیابی حاصل کی ہے، اس طرح کانگریس نے کل 721 گرام پنچایتوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اسی کے ساتھ ایم وی اے نے کل 1312 گرام پنچایتیں جیت کر ریاست میں برتری حاصل کر لی ہے۔یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے یہ بات کہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے دعوے پوری طرح سے جھوٹے ہیں،اس کے اندر اگر ہمت ہے تو بلدیاتی انتخابات کرواکردکھائیں۔
تلک بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ گرام پنچایت انتخابی نتائج سے متعلق بھارتیہ جنتا پارٹی کا دعویٰ جھوٹا اور مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت میں گرام پنچایت الیکشن پارٹی نشانات پر نہیں لڑے جاتے۔ بی جے پی کی طرف سے دیے گئے اعداد و شمار فرضی ہیں۔ وہ گرام پنچایتوں کے ناموں اور جیتنے والے امیدواروں کی فہرست کا اعلان کریں، تب لوگوں کو پتہ چلے گا کہ عوام نے نتیجہ کس کے حق میں دیا ہے۔ بی جے پی نے گزشتہ سال مارکیٹ کمیٹی کے انتخابات میں بھی ایسا ہی جھوٹا دعویٰ کیا تھا، لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔ کانگریس اور اس کی اتحادیوں نے ریاست کی زیادہ تر مارکیٹ کمیٹیوں پر کامیابی حاصل کی ہے، گرام پنچایتی انتخابات میں بھی ریاست کے عوام نے بی جے پی کو ان کی حیثیت بتادی ہے، لیکن اس کی حالت گرکر بھی ٹانگیں اوپر کی ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ناگپور ضلع میں بھی بی جے پی کا صفایا ہو گیا ہے۔ بھنڈارا ضلع کے موہاڈی تعلقہ میں کانگریس نے 23 گرام پنچایتوں میں زبردست جیت حاصل کی ہے اور صرف 2 گرام پنچایتیں بی جے پی کے پاس گئی ہیں۔ لیکن اس شکست کے بعد بھی بی جے پی اپنی تھپتھپارہی ہے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ اس گرام پنچایت انتخابات میں او بی سی ریزرویشن نہ ہونے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی اور دیویندر فڈنویس ذمہ دار ہیں۔ فڈنویس اور بی جے پی کی وجہ سے او بی سی کا سیاسی ریزرویشن ختم ہو گیا ہے۔ فڈنویس نے اقتدار میں آنے کے بعد 24 گھنٹے کے اندر او بی سی برادری کو ریزرویشن دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن ڈیڑھ سال کی مدت کے بعد بھی او بی سی برادری کو سیاسی ریزرویشن نہیں ملا ہے۔ ریاست کے عوام نے بی جے پی کا جھوٹا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ مہاراشٹر کے تمام علاقوں میں کانگریس کا اثر و رسوخ برقرار ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے اجیت پوار کے مہایوتی میں شامل ہونے سے فائدہ ہونے پر سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس سے مہایوتی کو فائدہ ہوا ہے تو وہ اسمبلی تحلیل کرکے انتخابات کرانے کی ہمت کیوں نہیں دکھاتے ہیں۔ یہ حکومت ’تین تگاڑا کام بگاڑا‘ کی طرح ہے۔ اگر ان میں اتنی طاقت ہے تو پارٹیوں کے انتخابی نشانیوں پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات کرانے خوفزدہ کیوں ہیں؟
پٹولے نے کہا کہ پوری ریاست خشک سالی کی شکار ہے لیکن حکومت نے صرف 40 تعلقہ میں خشک سالی کا اعلان کیا ہے۔دیوالی کا تہوار قریب ہے لیکن کسانوں کو ابھی تک کوئی مالی مدد نہیں ملی ہے۔ انہیں فصلوں کے نقصان کا معاوضہ تک نہیں ملا اور 50,000 روپے کی مراعاتی امداد بھی نہیں ملی۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ بی جے پی حکومت کسان مخالف ہے اور کسانوں کو خودکشی پر مجبور کررہی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے چھتیس گڑھ میں ایک انتخابی ریلی میں دھان کی 3100 روپے کی ضمانتی قیمت کا اعلان کیا تھا، لیکن پورے ملک میں دھان کی ایم ایس پی 2600 روپے ہے۔ وزیر اعظم 3100 روپے صرف چھتیس گڑھ کو کیوں دیتے ہیں پورے ملک کے کسانوں کو نہیں دیتے؟ نانا پٹولے نے یہ سوال بھی پوچھا ہے کہ 500 روپے میں سلنڈر دینے کی زبان صرف انتخابی ریاستوں میں ہی کیوں استعمال کی جاتی ہے۔ پورے ملک میں 500 روپے کا سلنڈر کیوں نہیں دیا جاتا؟