MPCC Urdu News 04 Jan 23

عبدالستار وزیر ہے یا غنڈہ؟ کیا وزیر اعلیٰ کارروائی کرنے کی جرات دکھائیں گے؟: اتل لونڈھے

’پیٹھ ٹوٹنے تک مارو‘،’کتے کی طرح مارو‘ جیسی زبان استعمال کرتے ہیں عبدالستار مہاراشٹر کے لیے کلنک ہیں

بی جے پی کی قیادت والی حکومت کے بدمست وزیروں کو عوام اس بار سبق سکھاکر رہے گی

ممبئی: مہاراشٹر کے مالیات اور اقلیتی ترقیات کے وزیر عبدالستار کا لوگوں کو ایک اور کارنامہ دیکھنے کو ملا ہے۔ لاونی ڈانسر گوتمی پاٹل کے پروگرام میں کچھ نوجوانوں نے ہنگامہ کردیاجس پر وزیر نے پولیس کو انہیں روکنے کے لیے لاٹھی چارج کرنے کا حکم دیا۔ عبدالستار پولیس کو کتوں کی طرح مارنے اور کمر توڑ دینے کا کہہ رہے ہیں۔ حیرت ہے کہ جب ایک ہزار پولیس والے ہیں تو 50 ہزار لوگوں کو مارنے کا کیا فائدہ؟ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ عبدالستار وزیر ہے یا غنڈہ؟کیا وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے منھ زور عبدالستار کے خلاف کارروائی کرنے کی جرأت دکھائیں گے؟یہ سوال مہاراشٹر پردیش کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے حکومت سے کیا ہے۔

وزیر عبدالستار اور شندے حکومت پر حملہ کرتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی شندے حکومت کے آنے کے بعد وزراء، ایم ایل اے اور ایم پی اقتدار کے نشے میں بدمست ہو گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی پارٹی شیو سینا کے کابینی وزیر عبدالستار نے سلوڈ میں گوتمی پاٹل کے پروگرام منعقد کیا تھا۔ اس پروگرام میں کچھ نوجوانوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اپنے ذریعے منعقد پروگرام میں افراتفری کو دیکھ کر وزیر غصے میں تلملاگئے اورپولیس کو براہ راست لاٹھی چارج کرنے کا حکم دیدیا۔ وزیر کے حکم پر پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پولیس کا کام صرف وزیر کی سالگرہ کی تقریب میں لوگوں کاسنبھالنے کا رہ گیا ہے؟عبدالستار کی زبان دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ وزیر بننے کے قابل نہیں ہیں، لیکن وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے، ڈپٹی وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس اور اجیت پوارمیں ایسے وزراء کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت نہیں ہے۔

اتل لونڈھے نے کہا کہ ستار ایک متنازعہ وزیر ہیں۔ ان کا نام ٹی ای ٹی گھوٹالہ اور 37 ایکڑ زمین گھوٹالہ میں آیا تھا۔ جب وہ وزیر زراعت تھے تو جعلی چھاپوں اور ریکوری کے کیسوں میں بھی ان کا نام آیاتھا۔عبدالستار نے این سی پی رکن پارلیمنٹ سپریا سولے سے متعلق بھی بدزبانی کی تھی۔ عبدالستار اس وقت اقتدار کا نشہ سوار ہے اور وہ اس نشے میں بدمست ہوچکے ہیں۔ لیکن اب عوام ایسے بدمست اور غیرمہذب زبان کا استعمال کرنے والے وزراء کو اقتدر سے بے دخل کیے بغیر نہیں رہے گی۔

بھارت جوڑو یاترا کی طرح بھارت جوڑو نیائے یاترا کوعوام کا بے مثال تعاون ملے گا: نانا پٹولے

بھارت جوڑو نیائے یاترا مہاراشٹر میں 479 کلومیٹر کا سفر کرے گی

بی جے پی چاہے جو کرلے 2024 کے انتخابات میں وہ اقتدار میں واپس نہیں آئے گی

مخالفین کو ڈرانے ودھمکانے کے لیے بی جے پی ای ڈی، سی بی آئی کا غلط استعمال کررہی ہے

ممبئی:رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کی قیادت میں کنیا کماری سے کشمیر تک بھارت جوڑو یاترا کو عوام کا بے مثال تعاون ملا۔ اب 14/ جنوری سے منی پور سے ممبئی تک بھارت جوڑو نیا ئے یاترا شروع ہو رہی ہے۔ بھارت جوڑو یاترا کے ذریعے ملک کو جوڑنے کا جو کام کیا گیا وہی کام اس یاترا کے ذریعے بھی کیا جائے گا اور لوگوں کے انصاف وحقوق کے لیے آواز بلند کی جائے گی۔بھارت جوڑویاترا کی مانند اس بھارت جوڑونیائے یاترا کو بھی عوام کا فقیدالمثال تعاون حاصل ہوگااور ملک کا ماحول تبدیل ہوگا۔ اس یقین کا اظہار آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔

بھارت جوڑو نیائے یاترا کی تیاری سے متعلق دہلی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے دفتر میں منعقدہ میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا نے ملک توڑنے والوں کو منھ توڑ جواب دیا ہے۔ اس یاترا کے ذریعے راہل گاندھی نے تمام طبقات کے لوگوں کے مسائل وتکالیف کو سنا۔ اب بھارت جوڑو نیا ئے یاترا 14/ جنوری کو منی پور سے دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔ یہ یاترا 66 دن، 110/ اضلاع اور 6713 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے مہاراشٹر میں مالیگاؤں، ناسک، تھانے، ممبئی میں 5 دن، 6 اضلاع اور 479 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرے گی۔ دہلی میں ہونے والی میٹنگ میں بھارت جوڑو نیا ئے یاترا کی کامیابی کے لے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

سیٹوں کی تقسیم پر مہاوکاس اگھاڑی میں کوئی اختلاف نہیں ہے

لوک سبھا کی سیٹوں کی تقسیم سے متعلق آج کی میٹنگ میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ سیٹوں کی تقسیم سے متعلق مہاوکاس اگھاڑی میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے کے ساتھ اس ضمن میں بات چیت ہوئی ہے۔ سیٹوں کی تقسیم کے حوالے سے سب سے بڑی آگ تو مہایوتی میں لگی ہوئی ہے اور اس کانتیجہ آنے والے انتخابات میں یقینی طور پر سامنے آئے گا۔ سیٹ الاٹمنٹ کے سلسلے میں مکل واسنک کی صدارت میں ایک کمیٹی مقرر کی گئی ہے اور اس کمیٹی کی میٹنگ دو چار دنوں میں ہوگی۔

2024 کے الیکشن میں بی جے پی کی شکست

ناناپٹولے نے کہا کہ بی جے پی بری طرح خوفزدہ ہے اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے بعد بی جے پی کی حکومت دوبارہ مرکز میں اقتدار میں نہیں آئے گی۔ بی جے پی حکومت نے اپنے دو کارکنوں ای ڈی اور سی بی آئی کو کام پر لگارکھا ہے۔ جن لوگوں پر بدعنوانی کا الزام ہے ان کو بی جے پی نے پارٹی میں شامل کرتے ہوئے واشنگ مشین میں ڈال کر انہیں کرلیا گیا ہے۔ ای ڈی اور سی بی آئی کے ذریعے مخالفین کو ڈرانے ودھمکانے کا کام پچھلے 10 سالوں سے جاری ہے لیکن ملک کے عوام ان کی چال کو پہچان چکی ہے۔ نانا پٹولے نے یقین ظاہر کیا کہ بی جے پی چاہے کچھ بھی کر لے وہ 2024 کے انتخابات کے بعد دوبارہ اقتدار میں نہیں آئے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading