DelhiViolence: دلی میں ہنگامے جاری، اب تک سات افراد ہلاک

نئی دہلی۔(بی بی سی )انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے شمال مشرقی علاقوں میں شہریت کے متنازع ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں اور اس قانون کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں اور پرتشدد واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد سات ہو گئی ہے۔

یہ ہنگامے دلی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ہو رہے ہیں اور اتوار کو شروع ہونے والے ہنگاموں میں اب تک درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

انڈیا میں شہریت کے متنازع ترمیمی قانون کے حوالے سے پچھلے کچھ مہینوں سے احتجاج جاری ہے لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انڈیا آمد سے قبل یہ احتجاج پرتشدد ہو گیا۔

جی ٹی بی ہسپتال کے ذرائع کے مطابق منگل کو مزید دو زخمیوں کی موت ہوئی ہے اور اب ہلاکتوں کی تعداد سات ہو چکی ہے۔

ہنگاموں میں زخمی ہونے والوں کی تعداد تین درجن سے زیادہ بتائی جا رہی ہے جن میں سے 35 افراد کا علاج جی ٹی بی ہسپتال میں جاری ہے۔

ہلاک ہونے والے عام شہریوں میں محمد سلیمان اور شاہد علوی بھی شامل ہیں۔ محمد سلیمان کا تعلق دلی کے علاقے جعفرآباد سے بتایا گیا ہے جبکہ شاہد علوی ریاست اترپردیش کے بلند شہر سے ہیں۔ پولیس نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ محمد سلیمان کی ٹانگ میں گولی لگی اور اس کی موت زیادہ خون بہنے سے ہوئی۔

شمال مشرق دلی کے دس علاقوں میں پولیس نے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے۔ متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے والے بی بی سی کے نمائندے ونائیک گائیکواڈ کے مطابق پیر کی سہ پہر کو پرتشدد واقعات کے بعد رات گئے تک چاند باغ، بھجن پورہ، برج پوری، گوکولپوری اور جعفرآباد میں خوف و ہراس کا ماحول تھا۔

’نام بتایا تو مجھے پتلون اتارنے کو کہا‘

شمال مشرقی دلی کے رہائشی سرفراز علی بھی ان جھڑپوں کے دوران تشدد کا نشانہ بنے۔ سرفراز 24 فروری کی رات اپنے چچا کے جنازے سے واپس آرہے تھے۔

انڈیا

سرفراز نے بتایا کہ وہ موٹرسائیکل پر اپنے والد کے ساتھ گوکولپوری سے آرہے تھے۔ کراسنگ پل پر ہجوم نے انھیں اور ان کے والد کو گھیر لیا، وہاں بہت سے لوگ آ جا رہے تھے اور ہجوم میں شامل افراد ان کے شناختی کارڈ چیک کر رہے تھے۔

اپنے اوپر ہونے والے حملے کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا ‘اس نے میرا نام پوچھا، میں نے ابتدا میں دوسرا نام بتانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد اس نے مجھ سے میری پتلون اتارنے کو کہا۔ جب میں نے اپنا نام سرفراز بتایا تو اس نے مجھے لاٹھیوں سے پیٹنا شروع کر دیا اور آگ میں پھینک دیا۔‘

ایمبولینس پر حملہ

پیر کو شمال مشرقی دہلی کے چاند باغ، بھجن پورہ، برج پوری، گوکولپوری اور جعفرآباد کے علاقوں میں بھی زخمیوں کو ہسپتال لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

سرفراز کو دہلی کے جی ٹی بی ہسپتال لانے والے حسن اور ستیہ پرکاش تھے۔ حسن کا کہنا تھا ‘مجھے رات کے وقت پرانے برجپوری علاقے کے مہر ہسپتال سے فون آیا کہ وہاں موجود ایک نوجوان سرفراز کو جی ٹی بی اسپتال منتقل کرنا ہے۔ میں اس علاقے میں داخل ہونے سے ڈر رہا تھا۔ لہٰذا ہم نے مریض کو باہر آنے کے لیے کہا۔ اس کے بعد سرفراز کے بھائی انھیں ساتھ لے کر باہر آئے۔’

حسن کی ایمبولینس پیر کی سہ پہر ہجوم کے حملے کا نشانہ بنی تھی جب انھیں سلیم پور میں زخمی ہونے والے ایک شخص کو ہسپتال لانے کا کام سونپا گیا تھا۔

حسن نے کہا: ‘ہم مریض کو ہسپتال لے جا رہے تھے۔ میں پیچھے بیٹھا تھا کیونکہ مریض کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ ستیہ پرکاش نے ابھی تھوڑا ہی ایمبولینس کو آگے بڑھایا کہ ہجوم نے ایمبولینس کے بونٹ اور پھر ونڈ سکرین پر حملہ کیا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading