ندوۃ العلماء کے امتحانات سے لیکر لاک ڈاؤن کے سفر تک
محمد سرتاج.
میری ڈائری.
قسط سوم.
ہاں !!!
دولت خانہ کا تصور آتے ہی ہر کس و ناکس سوشل میڈیا کی طرف اپنی تمام تر توجہات مبذول کردیتا،لاک ڈاؤن میں اضافے کی خبریں ہمارے کلیجے کو چھلنی کر رہی تھیں،جسم کبھی کبھار لاش کی ہیئت اختیار کر لیتا، تصورات وتخیلات کے صحرا میں برگ آوارہ بنی پھرتی روح گھر کی زیارت کرتی.
اور دل عقل سے کہتا تھا ماں کی محبت کی لہروں سے اپنے دامن کو تر ہونے سے بچا پاؤ گے ؟؟
اپنے وطن کی مست ہواؤں کی روانی میں چھلکنے والا سرور اس پر حملہ کر رہا تھا،
گاؤں کے باغوں میں درختوں کی ڈالیوں پر بیٹھے چہکتے اور چہچہاتے پرندے ہم سے اپنے رنج و الم کے قصے سنا رہے تھے،
بارش کے پانی کو پیتی کچی سوندھی سڑکوں کی خوشبوئیں جی کو متیار ہی تھیں،
چودھویں شب کی جھیل میں نظر آنے والے چاند کا چہرہ خوشی سے پاگل ہو رہا تھا،
کھپریلے پھوس کے مکانات اور اس میں بسنے والے بھولے بھالے انسان اپنے پاس بلا رہے تھے،
کھلیانوں اور میدانوں میں ہمجولیوں کے ساتھ کھیلنے والے ایام من کو ترسا رہے تھے،
امی اور ابو کی یاد ستا رہی تھی،
بھائیوں اور بہنوں کی دیرینہ محبت و رفاقت ہماری نیندوں کو اڑا رہی تھیں
گھر کی دہلیز ہمیں بلا رہی تھی،
ہمیں آواز دے رہی تھی،
میرے گاؤں کا حسن مت پوچھو
چاند کچے مکان میں رہتا ہے
پھر نفس ناطقہ کی باری آتی؛
ہوش کے ناخن لو !!!
بیوقوف نہ بنو !!!
سمجھ کی بات کرو !!!
ہماری زندگی تو بادشاہوں،سرداروں اور امیر زادوں سے بھی بہتر کٹ رہی ہے۔
ادارے نے ہماری راحت رسانی اور خوردونوش کے نظم و نسق میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی،
لیکن وطن سے جدائی کے داغ نے دل کے پھپھولوں کو جلا دیا تھا،
دل اور عقل کے باہم کلکل کلکل پٹ پٹ نے زمانے کو نظر میں اندھیرا کر دیا تھا،
یکے بعد دیگرے بتسلسل صدمہائےخاطر نے اسے باغی بنادیاتھا،
خول چہروں پہ چڑھانے نہیں آتے ہم کو
گاؤں کے لوگ ہیں ہم شہر میں کم آتے ہیں
ابھی دل میں اک شور بپا ہی تھا کہ لاک ڈاؤن کی مدت میں توسیع جدید نے ہماری کمر ہی توڑ ڈالی، سمندر میں طغیانی لانےاور اس کی موجوں سے کھیلنے والا طوفان تھم گیا، تھوڑے ہی دنوں میں رولس اور ضابطے کے دائرے میں جی رہے لوگوں کو پروانہ سفر دیا جانے لگا،
لیکن ؟؟
ہائے رے ہماری قسمت !!!
ہائے رے ہماری بد نصیبی !!!
واہ رے تقدیر !!!
جو چٹانوں سے مضبوط ارادوں کو ریزہ ریزہ کر دے رہی تھی،
جو ہماری ہر کوشش کا صلہ تضحیک ومسخرے سے دے رہی تھی،
جو ہماری ہر کامیابی کا راز ناکامی کے پردے میں چھپانے کا ہنر رکھتی تھی،
انتظامیہ کی ساری جدوجہد ،دوڑ دھوپ رنگ لاتی نظر نہیں آرہی تھی، حالات نے ایک بار پھر ہمارے منھ پر زور دار تھپڑ ماراتھا، گر دش زمانہ نے پھر۔۔۔۔ اپنے زندان کا قیدی بنا لیا تھا ، پابندیوں۔۔۔۔۔۔ کی زنجیروں میں جکڑے ہم خود کو ہی بے بس۔۔۔۔۔۔۔ گردان رہے تھے،
اللہ جزائے خیر دے ابوالمحاسن حضرت بانی ادارہ حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی کو جن کے قدم رکھتے ہی آنکھیں امید کے چراغ سے روشن ہوگئیں پژمردہ کلیوں میں جان سی آ گئی، خشک ہونٹوں پر تبسم کی بجلی دوڑ نے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہی کےروشن اقدام سے ہمیں اپنے عید کے خوشگوار لمحات گھر پر دیکھنے کو میسر ہوۓ۔۔۔۔۔۔
حضور والا نے فوری طور پر میڈیکل جانچ تھرمل اسکریننگ اور قانونی چارہ جوئی کے ذریعے ہمیں اپنے وطن اصلی پہونچوانے اور سفر میں ہونے والے تمام اخراجات کا ذمہ اپنے سر لیا ۔۔۔
جاری۔۔۔۔۔
