شندے-فڈنویس حکومت کو مہاراشٹر میں بھی ذات پرمبنی مردم شماری کرائے

256
  • اسمبلی اجلاس میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے کامطالبہ
  • کانگریس کی حکومت والی ریاستوں میں پرانی پنشن اسکیم نافذتو مہاراشٹر میں کیوں نہیں؟

  • مرکزی حکومت کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کی سیکورٹی پر خصوصی توجہ دے

ناگپور:او بی سی طبقے کے مسائل کے حل کے لیے ذات پرمبنی مردم شماری ضروری ہے، لیکن مرکزی حکومت ایسی مردم شماری نہیں کر ارہی ہے۔ کچھ ریاستوں نے ذات پرمبنی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔او بی سی طبقے کے انصاف اوران کے مسائل کے حل کے لیے مہاراشٹر کی شنڈے فڈنویس حکومت کو بھی ریاست میں ذات پرمبنی مردم شماری کرانی چاہیے۔ یہ مطالبہ ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے جمعرات کو اسمبلی اجلاس کے دوران کیا ہے۔

اس ضمن میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ جب میں اسمبلی کا اسپیکر تھا تو 8 جنوری 2020 کو ذات پرمبنی مردم شماری کرانے کے لیے قرارداد منظور کی گئی تھی۔ مہاراشٹر ملک کی پہلی ریاست تھی جس نے ایسی قرارداد منظور کی تھی۔ اس کے بعد دیگر ریاستوں نے بھی اسی طرح کی قراردادیں پاس کیں۔ جمعرات کو نانا پٹولے نے مہاراشٹر میں ذات پرمبنی مردم شماری کرانے کا معاملہ اٹھایا، لیکن حکومت کی جانب سے کسی وزیر نے جواب نہیں دیا۔ ایسے میں کانگریس کے ریاستی صدر نے سوال کیا ہے کہ کیا بی جے پی حکومت او بی سی مخالف ہے؟ایوان میں اسمبلی کے سپیکر اپوزیشن کے ارکان کو دیکھ کر مسکرا رہے ہیں۔ پٹولے نے کہا کہ اگر یہ اسپیکر زیادہ دنوں تک اپنی کرسی پر براجمان رہے تو ایوان کے ارکان کے حقوق سلب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایوان کی کارروائی کے دوران تمام ارکان کو ایوان میں بولنے کا موقع ملنا چاہیے لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔ پٹولے نے کہا کہ ہم نے ذات پرمبنی مردم شماری کے معاملے پر بحث کا مطالبہ کیا، لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے اس رویے کو دیکھتے ہوئے ہم رولز کا جائزہ لینے کے بعد ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پرغور کررہے ہیں۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ایوان میں ہم نے بڑھتی مہنگائی و بے روزگاری کے علاوہ کسانوں کے مسائل، ودربھ، شمالی مہاراشٹر، مراٹھواڑہ، مغربی مہاراشٹر و کوکن وغیرہ کے مسائل اٹھائے ہیں۔ پارلیمانی روایت کا استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن نے حکومت سے ان سوالات کے جوابات مانگے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ حکومت ان سوالوں کا کیا جواب دیتی ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ کانگریس پارٹی مہاراشٹر میں پرانی پنشن اسکیم کو لاگو کرنے کے حق میں ہے۔ ہمارے لیڈر راہل گاندھی نے بھی پرانی پنشن اسکیم کی حمایت کی ہے۔ پرانی پنشن اسکیم کانگریس کی حکومت والی ریاستوں راجستھان و چھتیس گڑھ میں لاگو کی گئی ہے اور حال ہی میں ہماچل پردیش میں کانگریس کی حکومت آئی ہے اور وہاں بھی اس اسکیم کو نافذ کیا جارہا ہے۔ لیکن مہاراشٹر میں بی جے پی حکومت پرانی پنشن اسکیم کو لاگو نہیں کر رہی ہے۔ بی جے

پی کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کے نفاذ سے سرکاری خزانے پر بھاری مالی بوجھ پڑے گا۔ پٹولے نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے پاس صنعت کاروں کو دینے کے لیے پیسے ہیں لیکن سرکاری ملازمین کو پرانی پنشن دینے کے لیے پیسے کیوں نہیں ہیں؟ پٹولے نے ریاست میں پرانی پنشن اسکیم کو لاگو کرنے پر اصرار کیا۔

نانا پٹولے نے کہا کہ راہل گاندھی ایک ایسے لیڈر ہیں جو عوام میں گھل مل جاتے ہیں۔ ملک کے لوگ بھارت جوڑو یاترا کے دوران یہ تصویر دیکھ رہے ہیں۔ لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ راہل گاندھی کی سیکورٹی میں کئی کوتاہیاں ہوئی ہیں۔ دہلی میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران سیکورٹی کافی حد تک ڈھیلی تھی۔ ملک کے اتحاد اور سلامتی کی خاطر گاندھی خاندان کے دو وزرائے اعظم کو شہید کر دیا گیا۔ پھر بھی مرکز کی بی جے پی حکومت نے کانگریس کی سابق صدر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی سیکورٹی میں کمی کر دی ہے۔ کانگریس کے تمام کارکنان گاندھی خاندان کی حفاظت کو لے کر پریشان ہیں۔ اس سلسلے میں کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو خط بھیجا ہے۔ جس میں راہل گاندھی کی سیکورٹی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔