لکشمی پور مہراج گنج // پندرہویں شعبان کی رات ، شب برات کہلاتی ہے، اس رات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو گناہوں سے بری اور پاک وصاف کرتا ہے، یعنی مغفرت چاہنے والوں کی بے انتہا مغفرت فرماتا ہے، جیسا کہ بہت سی احادیت میں آیا ہے، نیز اس رات میں سالانہ فیصلے کی تجدید فرماتا ہے، جیسا کہ قرآن میں سورة دخان میں موجود ہے، فیہا یفرق کل امر حکیم ۔ آپ کو معلوم ہونا چا ہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس رات کو برکت والی رات کا نام اس لئے دیا کہ اللہ اس رات لوگوں کے درجات میں اضافہ فرماتا ہے، ان کی لغزشوں کو معاف کرتا ہے، قسمت کی تقسیم کرتا ہے، رحمت پھیلاتا ہے، اور خیر عطا کرتا ہے۔ اس لئے ہمیں اس بابرکت اور اہمیت والی رات کا خصوصی طور پر اہتمام کرنا چاہئے، اور سنن ونوافل کی ادائیگی اور تلاوت کلام پاک کے ذریعہ اپنے قلوب کو منور کرنا چاہئے، اور زیادہ سے زیادہ توبہ واستغفار کرنا چاہئے۔ مذکورہ خیالات کااظہار دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ کے ناظم تعلیمات مولانا محمد انتخاب عالم ندوی نے شب برات کے موقع پر پھریندہ کی ایک بڑی مسجد میں مصلیان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
آپ نے کہا کہ: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں شب میں آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں، اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتے ہیں۔مگر چودہ قسم کے آدمیوں کے مغفرت نہیں ہوتی ، لہٰذا ایسے لوگوں کو اپنے احوال کی اصلاح کرنی چاہئے، مشرک آدمی ، وہ کسی بھی قسم کے شرک میں مبتلا ہو، بغیر کسی شرعی وجہ کے کسی سے کینہ اور دشمنی رکھنے والا۔اہل حق کی جماعت سے الگ رہنے والا ، زانی وزانیہ، رشتہ داری توڑنے والا ، ٹخنوں سے نیچے اپنا کپڑ ا لٹکانے والا، ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا، شراب یا کسی دوسری چیز کے ذریعہ نشہ کرنے والا، کسی کو قتل کرنے والا، جبراً ٹیکس وصول کرنے والا ، جادوگر ، ہاتھوں کے نشانات وغیرہ دیکھ کر غیب کی خبریں بتانے والا ، طبلہ اور باجا بجانے والا۔
مولانا ندوی نے مزیدکہا کہ شب برات کو عام طور پر لوگ تہوار سمجھتے ہیں، اور نئے کپڑے سلواتے ہیں، جو بالکل غلط ہے، حضور نے فرمایا مسلمانوں کے لئے دو عید ہے، ایک عید الفطر دوسری عید الاضحی ، اسکے علاوہ اسلام میں نہ تیسری تھی نہ ہے نہ ہوگی۔ نیز اس رات میں برتنوں کو بدلنا ، گھر لیپنا اورگلی کوچوں میں چراغاں کرنا دین میں نئی چیز داخل کرنے کے مترادف ہے، یہ ایک طرح کی بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے، جو شخص ایسا کرے گا، وہ بدعتی ہوگا،اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔اس لئے قرآن وحدیث سے جتنی بات ، جتنی مقدار میں ثابت ہو ، اس پر عمل کرنا ہی دین وشریعت ہے ، اس سے تجاوز کرنا درست نہیں ۔