دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور شام پر 70 حملے
بدلہ یا طاقت کا بے لگام استعمال؟
امریکہ نے ایک بار پھر اپنی عسکری طاقت کے زور پر شام کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا۔ مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ شام پر امریکی موجودگی بذاتِ خود ایک نامناسب، زبردستی اور بین الاقوامی قانونی اصولوں سے متصادم مداخلت ہے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ شام کی زمین پر امریکی بوٹ اُترے ہی اس لیے تھے کہ ملک کی خودمختاری مجروح ہو اور خطے میں ایک نئی لہرِ تباہی جنم لے؟
تحریر: سید اکبر زاہد
دو امریکی فوجیوں کی موت یقیناً ایک سانحہ ہے — ہر انسانی جان قیمتی ہوتی ہے۔ مگر سوال یہاں یہ ہے کہ:
جس سرزمین پر آپ نے جنگ کی بنیاد ہی غیرقانونی رکھی ہو، وہاں ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ داری کس کے سر جاتی ہے؟
شام میں اب تک کتنی زندگیاں امریکی حملوں کے نتیجے میں مٹ چکی ہیں؟
کتنے گھر خاکستر ہوئے؟
کتنے بچے یتیم ہوئے؟
کتنی عورتیں بیوہ ہوئیں؟
اور کتنی بستیاں صفحۂ ہستی سے مٹا دی گئیں؟
کیا ان سب کا کوئی حساب ہے؟
کیا ان سب کا کوئی نام ہے؟
کیا ان کے لیے کبھی “بدلہ” لیا جائے گا؟
امریکی طاقت کا یہ رویہ نیا نہیں — ایک امریکی فوجی کی ہلاکت پر پوری قوم کو سزا دینا ایجنڈا معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب امریکہ کی جانب سے ڈرون حملوں، بمباری، میزائل وائرز اور بریگیڈز کی صورت میں معصوم انسان مارے جاتے ہیں، تو وہاں “کولیٹرل ڈیمیج” کا لیبل لگا کر سب کچھ جائز قرار دے دیا جاتا ہے۔
یہاں سوال صرف اخلاقیات کا نہیں — یہ سوال انسانیت کے بنیادی اصولوں کا ہے۔
اگر ایک فوجی کی موت جنگ کا حصہ کہلاتی ہے، تو شام کے بے گناہوں کی موت جنگ نہیں، ظلم کیوں نہیں کہلاتی؟
اگر امریکہ کے دو فوجیوں کے لیے 70 حملے کیے جا سکتے ہیں، تو کیا شام کے ہزاروں مرد و زن کی چیخیں زمین پھاڑ دینے کے بعد بھی آسمان تک نہیں پہنچتیں؟
حقیقت یہ ہے کہ طاقتور ملکوں نے انصاف اور حساب کا معیار اپنے مفاد کے مطابق طے کر رکھا ہے۔
جن ہاتھوں میں طاقت کی بندوق آ جاتی ہے، وہی انصاف کا قلم بھی پکڑ لیتے ہیں۔
اور پھر دنیا ان کے فیصلوں کی قیدی بن جاتی ہے۔
شام کے بچے آج بھی دھویں سے بھری فضا میں سانس لیتے ہیں۔
ان کی آنکھوں میں آج بھی سوال ہے:
“ہمارا قصور کیا ہے؟”
مگر ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں — نہ اقوام متحدہ کے پاس، نہ عالمی عدالت کے پاس، نہ دنیا کی بڑی طاقتوں کے پاس۔
امریکہ اگر واقعی اپنے فوجیوں کی جانوں کا احترام کرتا ہے، تو اسے سب سے پہلے یہ سوچنا ہوگا کہ انہیں جنگ کے نام پر ہزاروں میل دور غیر ملکی سرزمین پر کیوں بھیجا جاتا ہے؟
جنگ کی آگ میں جب تک بیرونی طاقتیں اپنا ایندھن ڈالتی رہیں گی، یہ آگ کبھی نہیں بجھے گی — اور اس کے شعلے ہمیشہ معصوموں ہی کو جھلسائیں گے۔
آخر میں سوال واشگاف ہے:
بدلہ خون کا لیا جاتا ہے، مگر کیا انصاف بھی خون سے لکھا جاتا ہے؟
دنیا کب یہ سیکھے گی کہ بدلہ امن نہیں لاتا — صرف مزید جنگیں لے کر آتا ہے۔
اور جب تک طاقتور اپنی طاقت کا بے جا استعمال “انصاف” کے نام پر کرتا رہے گا، شام جیسے ممالک کے آسمان یہی سوال کرتے رہیں گے:
“ہمارے خون کی قیمت کب طے ہوگی؟”