اہلیانگر: (ورق تازہ نیوز)چھترپتی شیواجی مہاراج کی جینتی کے موقع پر بدھ کی شام اہیلیانگر(احمد نگر )شہر میں نکالے گئے جلوس میں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مشہور مجرم لارنس بشنوئی کا پوسٹر بھی نظر آیا۔ پوسٹر پر لکھا تھا "I am a Hindu a Mad a Mad”۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بشنوئی کے پوسٹر کے پیچھے وزیر نیتیش رانے کی تصویر بھی تھی۔
اس واقعے سے شہر میں کافی ہلچل مچ گئی ہے۔ بشنوئی اور وزیر رانے کے پوسٹر ایک ساتھ نظر آنے پر لوگوں میں خاصی باتیں ہو رہی ہیں۔ شہر میں پہلے بھی مذہبی جلوسوں میں سیاسی رہنماؤں کے پوسٹر نظر آتے رہے ہیں لیکن اب مشہور مجرم کے پوسٹر بھی نظر آنے لگے ہیں۔ ایک تنظیم کے کارکنان نے یہ پوسٹر لگایا۔
آج کی جلوس میں مختلف تنظیموں نے شرکت کی جن میں پہلوان پریشتھان، شیوبا پریشتھان، سائی سنگھرش یوا منچ، جنتا گیراج اور چھترپتی شیواجی مہاراج جنم اتسو کمیٹی شامل ہیں۔ یہ جلوس شہر کے پرانے بس اسٹینڈ کے قریب سے شروع ہوا۔ جلوس کے دوران مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے یہ جلوس دہلی دروازہ تک پہنچا۔
جلوس کے پنچپیر چاوڑی کے علاقے میں پہنچنے پر مشہور مجرم لارنس بشنوئی کا پوسٹر نظر آیا۔ پولیس وہاں موجود تھی لیکن کسی نے بھی اس پوسٹر کو ہٹانے کی کوشش نہیں کی۔ اسی جلوس میں ناتھورام گوڈسے، سواتنتر ویر ساورکر، اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی تصویروں والے پوسٹر بھی نظر آئے۔ ایک اور تنظیم نے وزیر نیتیش رانے کا پوسٹر لگایا جس کے پیچھے لارنس بشنوئی کا پوسٹر تھا۔ اس پوسٹر پر لکھا تھا "I am a Hindu a Mad a Mad”۔
اس واقعے کے بعد شہر میں کافی ہلچل مچی ہوئی ہے اب دیکھنا ہے کہ ریاستی حکومت ایک قاتل کے پوسٹر کے ساتھ جلوس نکالنے والوں کے خلاف کس قانون کے تحت کاروائی کرتی ہے۔کیونکہ اس سے قبل حکومت نے مختلف مذہبی جلوس میں اورنگزیب رحمت اللہ علیہ اور حضرت ٹیپو سلطان کی تصاویر لے کر گھومنے والے مسلم نوجوان کے خلاف بھی سخت کاروائی کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات چلائے تھے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے خطرناک اور پیشہ ور قاتل کی تصاویر لے کر گھومنے والے افراد کے خلاف سخت کاروائی کرے اور ان لوگوں کے بشنوئی کے ساتھ کیا تعلقات ہیں اس کی بھی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔