2300 کروڑ کے کچرا ٹینڈر پر تنازعہ: ڈاکٹر جتیندر اوہاد نے سوالات اٹھائے تھانے میونسپل کارپوریشن پر بدعنوانی کے الزامات

2300 کروڑ کے کچرا ٹینڈر پر تنازعہ: ڈاکٹر جتیندر اوہاد نے سوالات اٹھائے
تھانے میونسپل کارپوریشن پر بدعنوانی کے الزامات

تھانے: (آفتاب شیخ)

تھانے شہر میں پانی کی قلت، بچوں کے کھیل کے میدانوں کی کمی اور 2300 کروڑ روپے کے کچرا منیجمنٹ ٹینڈر کے حوالے سے تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، شرد پوار گروپ کے سینئر لیڈر، سابق کابینی وزیر اور ممبرا-کلوا کے رکن اسمبلی ڈاکٹر جتیندر اوہاد نے اس ٹینڈر کو بدعنوانی کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے تھانے میونسپل کارپوریشن پر سخت تنقید کی ہے۔

ڈاکٹر اوہاد نے کہا، "میونسپل کارپوریشن اپنا ڈمپنگ گراؤنڈ تک نہیں بنا سکی، تو پھر 2300 کروڑ روپے کے کچرا منیجمنٹ ٹینڈر کی کیا ضرورت ہے؟ یہ عوام کے پیسوں کی بربادی اور بدعنوانی کا ذریعہ ہے۔" انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اس منصوبے کے تحت کچرے کا تصفیہ کیسے ہوگا؟

انہوں نے مزید کہا کہ تھانے کی خواتین پانی کی قلت کا شکار ہیں اور بچوں کو کھیلنے کے لیے میدان میسر نہیں۔ ڈاکٹر اوہاد نے میونسپل کارپوریشن کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی بنیادی ضروریات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر اوہاد نے اسمبلی میں تھانے کے لیے ایک ڈیم کی تعمیر کی تجویز پیش کی تھی تاکہ پانی کی قلت کا مسئلہ حل ہوسکے، لیکن اس پر کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پہلے پانی اور کھیل کے میدان جیسی بنیادی ضروریات کو پورا کیا جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر میونسپل کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "آپ کے پاس 100 کروڑ کا بجٹ نہیں ہے، لیکن 2300 کروڑ روپے کے منصوبے کی بات کر رہے ہیں۔ پہلے عوام کی بنیادی ضروریات پوری کریں، پھر اتنے بڑے پروجیکٹس پر غور کریں۔"

ڈاکٹر اوہاد نے تھانے میونسپل کارپوریشن سے عوامی فنڈ کے مناسب استعمال اور ترجیحی بنیادوں پر مسائل کے حل کی اپیل کی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading