انڈیا کی سیاسی جماعت کانگریس نے کچھ روز قبل خواتین کے لیے ایک خصوی منشور جاری کیا تھا جس کے سرورق پر پرینکا موریہ نامی خاتون کی تصویر تھی اور نعرہ تھا ‘لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں’۔اس منشور کے سرورق پر آنے کی وجہ سے پرینکا موریہ کانگریس کی اتر پردیش انتخابات کے لیے ‘پوسٹر گرل’ کہلانے لگیں۔جمعرات کو پرینکا موریہ نے کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کر لی اور کانگریس پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا۔

پرینکا موریہ نے بی بی سی سے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ کانگریس اپنی انتخابی مہم میں ان کا چہرہ استعمال کرے۔ انھوں نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے چہرے کا استعمال کر کے ان کے ووٹ بینک کا فائدہ اٹھانا بند کرے اور اس کام کے لیے کسی دوسری ماڈل کا استعمال کرے۔

اس کے بعد کانگریس پارٹی نے جمعے کو اتر پردیش انتخابات کے لیے نوجوانوں سے متعلق جو منشور جاری کیا ہے اس کے سرورق پر ایک خاتون کی تصویر تو ہے لیکن وہ پرینکا موریہ کی نہیں ہے جس کی تصدیق انھوں نے خود کی ہے۔

کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں کیوں شامل ہوئیں؟

اب پرینکا موریہ کے کانگریس سے بی جے پی میں جانے پر بات ہو رہی ہے۔ پرینکا موریہ کا دعویٰ ہے کہ وہ گذشتہ ایک سال سے کانگریس کی سرگرم رکن تھیں، وہ اترپردیش سے پارٹی کی خواتین وِنگ کی نائب صدر تھیں اور اس سے پہلے وہ یوتھ کانگریس کی جنرل سکریٹری کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں۔

ان کے مطابق وہ لکھنؤ کی سروجنی نگر اسمبلی سیٹ کی ٹکٹ ملنے کی امیدوار تھیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پارٹی کی سکریننگ کمیٹی کی سروے رپورٹ میں اس سیٹ کے لیے ان کا نام سرفہرست تھا، لیکن پارٹی نے آخری وقت میں کسی اور کو ٹکٹ دے دیا۔

ان کا مؤقف ہے کہ وہ پارٹی کی ‘پوسٹر گرل’ ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے کام کی بنیاد پر ٹکٹ مانگ رہی تھیں۔

انھوں نے بی بی سی سے کہا کہ ‘کانگریس پارٹی صرف خواتین کی بات کرتی ہے، لیکن جب موقع آتا ہے تو پھر خواتین کو ان کے جائز حقوق نہیں دیتی۔ ’میں لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں’ صرف نعرہ ہی ہے۔‘

انھوں نے الزام لگایا کہ کانگریس سے صرف اہلیت کی وجہ سے نہیں بلکہ پیسے اور رسائی کی وجہ سے ٹکٹ ملتا ہے۔

’ایک خاتون ہونے کے ناطے میں نے اس کے خلاف احتجاج کیا، کسی نے میرا ساتھ نہیں دیا اور اس لیے پارٹی چھوڑ دی۔‘

یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ جس سیٹ سے پرینکا موریہ ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہوئی ہیں، اب انھیں اس نشست کے لیے بی جے پی سے بھی ٹکٹ ملنے کی امید نہیں ہے۔ انھیں بی جے پی نے ٹکٹ کی کوئی یقین دہانی بھی نہیں کرائی ہے۔

سروجنی نگر کی نشست سے بی جے پی کی ریاستی اسمبلی کی موجودہ رکن سواتی سنگھ ہیں۔ وہ اس بار بھی اس نشست سے انتخابات میں حصہ لینے کی متمنی ہیں جبکہ ان کے شوہر بھی اسی نشست کے لیے ٹکٹ کے امیدواروں میں سے ایک ہیں۔ خیال رہے کہ سواتی سنگھ اس وقت وزیر اعظم مودی کی ریاستی کابینہ کا بھی حصہ ہیں۔

کانگریس کی ‘پوسٹر گرل’ کیسے بنیں؟

اتر پردیش کانگریس کے ترجمان ہلال نقوی نے بی بی سی سے گفتگو میں پرینکا موریہ کے دعوؤں کی تردید کی ہے۔

ان کے مطابق ’پرینکا کانگریس سے صرف ایک یا دو ماہ تک وابستہ رہی ہیں، انھیں سیاست کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ لیکن ان کے سیاسی عزائم ضرور تھے۔ مگر انھیں کانگریس کے خواتین وِنگ میں کوئی عہدہ نہیں دیا گیا تھا۔‘

کانگریس کے پوسٹر پر جگہ ملنے کے سوال پر ہلال نقوی کہتے ہیں کہ ’پوسٹر پر عام لڑکیوں کی تصویر کی ضرورت تھی، ایسی کوئی شرط نہیں تھی کہ انھیں سیاست سے جوڑ دیا جائے‘۔ان کے مطابق ’پوسٹر پر اور بھی بہت سی لڑکیوں کی تصاویر ہیں، ان میں سے کسی کا بھی کوئی سیاسی پس منظر نہیں ہے۔ جب ہم لڑکیوں کے لیے مہم شروع کر رہے تھے تو ان سے رابطہ کیا گیا اور اس وقت انھیں اس مقصد کے لیے لے جایا گیا۔ جب انھیں ٹکٹ نہیں مل سکا تو تب سارا تنازع کھل کر سامنے آیا کہ انھیں ٹکٹ چاہیے تھا‘۔

کیا پارٹی ان کے ٹکٹ کے عزائم سے واقف تھی؟
اس سوال پر ہلال نقوی کا کہنا ہے کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ میں نے ذاتی طور پر کسی کو بتایا ہے یا نہیں۔ لیکن انھوں نے سروجنی نگر اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑنے کے لیے درخواست ضرور دی تھی۔ پارٹی نے جیت کے امکانات جاننے کے لیے ہر نشست پر سروے کرایہ تھا تاکہ جیت کے امکانات کی بنیاد پر امیدواروں کا انتخاب کیا جا سکے۔‘ان کے مطابق اس رپورٹ میں پرینکا موریہ کا نام سرفہرست نہیں تھا۔وہ مزید کہتے ہیں ’محض پوسٹر پر کسی کی تصویر ہونا کسی کو ٹکٹ کا حقدار نہیں بناتا۔ پوسٹر پر آنے سے پہلے پرینکا موریہ کو کون جانتا تھا‘؟

پرینکا موریہ کون ہیں؟
32 برس کی ہومیوپیتھک ڈاکٹر پرینکا موریہ ایک چار برس کی بچی کی ماں بھی ہیں۔ وہ خود کو پسماندہ طبقات کا ایک نمایاں چہرہ سمجھتی ہیں۔ ان کا پورا خاندان لکھنؤ میں رہتا ہے۔ گذشتہ پانچ برس سے وہ سماجی خدمت کر رہی ہیں۔وہ کانگریس کی ‘پوسٹر گرل’ کیسے بنیں، اس سوال پر ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے کورونا وبا کے دوران بہت کام کیا، جس کی وجہ سے ان کی اپنے علاقے میں ایک پہچان بن گئی۔ سوشل میڈیا پر ان کے 10 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں، اس قدر شہرت پانے کے بعد کانگریس نے ان سے رابطہ کیا۔ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انھوں نے انتخابی مہم میں اپنا چہرہ استعمال کرنے کی تحریری اجازت نہیں دی تھی۔ جس دن کانگریس کا خواتین کا منشور جاری ہوا، انھیں معلوم ہوا کہ ان کی تصویر استعمال کی گئی ہے، انھیں ’دھوکہ‘ دیا گیا ہے۔پرینکا موریہ کا کہنا ہے کہ ان کی پرینکا گاندھی سے صرف ایک ملاقات ہوئی تھی، وہ بھی پریس کانفرنس میں۔