مدارس کھلنے کے بعد موضع” پھلوریا،، میں تعلیمی بیدار ی مشن کے تحت جلسہ کا انعقاد

مہراج گنج (عبید الرحمن الحسینی) اترپردیش حکومت کی طرف سے جاری سرکلر اور گائڈ لائن کے بعد جہاں اترپردیش کی تمام تعلیم گاہیں کھل گئی ہیں، وہیں دارالعلوم فیض محمدی میں بھی درجہ ششم تا عالیہ ثانیہ شریعہ سمیت حفظ قرآن کی تعلیم کا آغاز ہوچکا ہے۔اس مبارک تعلیمی سلسلہ کو بہتر سے بہتر اور کامیاب بنانے کے لئے ادارہ کے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی کے ہدایت پر مہتمم مدرسہ مولانا محی الدین قاسمی ندوی سمیت مفتی احسان الحق قاسمی، ڈاکٹر محمد اشفاق قاسمی، مولانا محمد سعید قاسمی، مولانا شکراللہ قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی، حافظ ذبیح اللہ، مولانا محمد یحی ٰ ندوی، ماسٹر محمد عمر خان،وغیرہ نے قرب وجوار کے مواضعات(دھریچی ، بوکوا، مرچہوا، خالق گڈھ، بہور پور، موہن پور) میں جاکر لوگوں میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے کے لئے محنت شروع کردی ہے، اسی تناظر میں جمعرات کے دن قریبی موضع پھلوریا میں بعد نماز مغرب تعلیمی بیدار ی کے عنوان سے ایک پروگرام ہوا، جس میں ادارہ کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے کہا کہ: تقریباً ایک سال پہلے کورونا وائرس کے خطرات کے سبب تمام تعلیمی اداروں کو بند کردیا گیا تھا، لیکن اب احتیاطی تدابیر کے ساتھ تمام عصری ودینی تعلیم گاہوں میں تعلیمی سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔، بلاشبہ کورونا وائرس کے سبب لاک ڈاون کے دنوں میں بچوں کا بہت زیادہ تعلیمی نقصان ہوا ہے، جس سے ہر شخص واقف ہے، لہذا تمام طلبہ اور سرپرستوں کو اس موقع سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہئے اور اسے مستقبل کی خاطر سنجیدگی سے لینا چاہئے ۔
مولانا ندوی نے حاضرین کے سامنے مکی دور میں صحابہ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہونے والی زیادتیوں اور ظلم کا تذکر ہ کرتے ہوئے کہا کہ : بلاشبہ صحابہ پر دشمنان اسلام نے ظلم کی انتہاءکردی تھی، اس کے باوجود انہوں نے حالات کا پامردی کے ساتھ مقابلہ کیا، اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ہر ظلم وزیادتی کا ڈٹ کر سامنا کیا، تو ٹھیک اسی طرح آج ہم بھی نا اہل حکمرانوں کی ظلم وزیادتی کا نہ صرف شکار ہیں، بل کہ کٹھن دور سے گذر رہے ہیں، ہمارے حقوق سلب کئے جارہے ہیں، دینی درسگاہوں اور تبلیغی کاموں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے، ایسے پریشان کن حالات میں ہمیں صحابہ کی زندگی سے سبق لینا چاہئے، اور تعلیم کو تمام کاموں پر فوقیت دیتے ہوئے اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی فکر کرنی چاہئے، کیوں کہ یہ امت زمانے میں قیادت کیلئے آئی ہے، اس لئے علوم دینیہ کے ساتھ عصری علوم سیکھ کر تمام صنعتی ، سائنسی ،طبی وٹیکنا لوجی کے میدان میں اپنا دبدبہ قائم کرنا وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے۔ آج وقت ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی روایت کو زندہ کرنے کیلئے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی طاقت کے ذریعہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہو گا۔