نئی دہلی : ایک دل دلہادینے والے حادثہ میں پوروانچل ایکسپریس وے پر ایک بی ایم ڈبلیو کار میں سوار 4 لوگوں کی دردناک موت واقع ہوگئی بتایا جارہا ہے کہ ان میں سے 2 ڈاکٹرس تھے جبکہ دو انجینئر۔ وائرل ویڈیو میں کار میں سوار دوست بار بار 300 مار 300 مار کہتے سنے جاسکتے ہیں۔جس کے بعد کار حادثہ کا شکار ہوگئی اور چاروں جائے حادثہ پر ہی ہلاک ہوگئے۔
मौत को हल्के में लेने वालों को ये वीडियो जरूर देखना चाहिए
4 दोस्त BMW में निकले, एक ने फेसबुक लाइव किया दूसरे से स्पीड 230 पहुंचा दी
पूर्वांचल एक्सप्रेस वे पर सभी की मौत हो गई pic.twitter.com/YWWYYia6Ir
— Nigar Parveen (@NigarNawab) October 15, 2022
پولیس نے بتایا کہ بہار کے روہتاس میں ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج کے 35 سالہ پروفیسر ڈاکٹر آنند پرکاش بظاہر اسٹینڈنگ وھیل پر تھے جب پس منظر میں ان کے ساتھی مسافروں کی پرجوش چہچہاہٹ کے درمیان بی ایم ڈبلیو 230 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چک رہی تھی۔ لائیو فوٹیج میں ایک دوست کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ سپیڈومیٹر 300 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کو چھو سکتا ہے، جس پر ایک اور نے طنزیہ انداز کہاکہ ہم سب مرجائیں گے سیٹ بیٹ پہن لو جو لمحوں بعد افسوسناک طور پر حقیقت میں بدل گئی۔
پولس کے مطابق بی ایم ڈبلیو ایک کنٹینر ٹرک سے ٹکرا گئی اور ایک ڈھیر بن گئی۔ انجینئر دیپک کمار، اکھلیش سنگھ اور تاجر مکیش کی خون آلود لاشیں ہائی وے پر بکھری پڑی تھیں۔ سبھی بہار سے تھے اور ان کی عمر 30 سے 35 سال کے درمیان تھی – جو دہلی جا رہے تھے۔
سلطان پور کے ایس پی سومن برما نے کہا کہ حادثے سے متعلق تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے اور فرار کنٹینر ڈرائیور کا سراغ لگانے کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جس پر حادثے کی تکنیکی تحقیقات کے لیے لاپرواہی سے موت واقع ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔ افسر نے کہا، "بی ایم ڈبلیو اور کنٹینر ٹرک کا تکنیکی معائنہ فرانزک اسٹیٹ لیبارٹری کی مدد سے کیا جائے گا۔”
#PurvanchalExpressway accident: Speeding #BMW crashes at chasing 300 kmph & while testing top speed, leaves 4 dead | #ACCIDENT pic.twitter.com/YDLsIFvoyH
— Mirror Now (@MirrorNow) October 17, 2022