*گلوبل وارمنگ کے لوکل اثرات*
*خطرے سے ناواقف بڑی آبادی:*
بھارت جیسے جنوب ایشیائی ملک میں جہاں دنیا کی بڑی آبادی مستقبل کے ماحولیاتی خطرات سے بے خبر زندگی گزار رہی ہے وہاں آج بھی ماحولیاتی تبدیلیاں اور گلوبل وارمنگ خاص و عام کے درمیان بحث کا موضوع نہیں ہے۔ ماہرین پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ بھارت میں اس سال آئی گرم لہریں یعنی Heat waves اب معمول کا حصہ بن جائیں گی ۔ سائینس دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں بھارت سمیت جنوبی ایشیا کو شدید موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے – سال 2022 موسمیاتی کے لحاظ سے اب تک بے حد غیر یقینی ثابت ہوا ہے ۔
ایک طرف جہاں شمالی بھارت کے زیادہ تر حصوں میں شدید گرمی اور لو کے حالات رہے تو وہیں مغربی بھارت خصوصاً مہاراشٹر میں شدید بارش اور ژالہ باری نے فصلوں کو بڑا نقصان پہنچایا –
ماحولیاتی تحقیقی ادارے، IPCC کی رپورٹ کے مطابق بار بار آرہی گرمی کی شدید لہریں مستقبل میں سیلابی بارشوں کی وجہ بن سکتی ہیں ، جس سے زراعت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
وہیں بے موسم بارش اور غیر یقینی موسمی حالات سے زراعت کے علاوہ دوسرے شعبوں سے جڑے افراد بھی پریشان ہیں – ماہرین کے مطابق ان حالات کی وجہہ کلائمیٹ چینج اور گلوبل وارمنگ ہی ہیں –
*غیر موسمی بارش اور سکڑتا زرعی رقبہ*
مغربی بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں بھی زراعت کا زیادہ تر انحصار قدرتی حالات اور مانسون پر ہے۔ ریاست میں قدرتی آفات اور ژالہ باری سے متاثر ہونے والے کسانوں کی تعداد ہر سال لگاتار بڑھتی جارہی ہے – ایسے میں حکومت صرف نقصان کا جائزہ لینے ‘ پنچنامے کرنے اور نقصان بھرپایئ ادا کرلینے سے خود کو بری الذمہ سمجھنے لگی ہیں – قابل زراعت زرعی رقبہ ہر سال سکڑتا جارہاہے اور کسان ، زراعت سے کنارہ کشی کرکے دوسرے پیشے اپنانے لگے ہیں –
زیادہ تر کسانوں کا زرعی آمدنی پر انحصار کم ہوگیا ہے اور وہ روزگار کی تلاش میں شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں جہاں انھیں گذر بسر کے لئے بنا کسی تجربے یا تربیت کے بعض اوقات ایسے خطرناک کام کرنے پڑ رہے ہیں جو جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
وسطی مہاراشٹر کا وہ حصہ جسے مراٹھواڑہ کہا جاتا ہے’ کسانوں کی خودکشیوں اور انکی زبوں حالی کے لئے ہمیشہ خبروں میں رہتا ہے۔ مراٹھواڑہ آٹھ ضلعوں کا ڈویژن ہے اور تاریخی شہر اورنگ آباد اسکی راجدھانی ہے ۔ مراٹھواڑہ میں زراعت اور کسانوں کے حالات مہاراشٹر کے دوسرے حصوں سے زیادہ ابتر اور بدحال ہیں ۔ سال ٢٠٢٢ کے موسم باراں کی شروعات میں ہوئی زبردست بارش سے فصلوں کا بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ۔ لاکھوں ہیکٹر رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں ۔ اس سے پہلے اپریل اور مئی کے مہینوں میں گرمی نے اس خطے میں اپنے پچھلے سارے ریکارڈ توڑدئے ۔ اپریل کے مہینے میں ہی پارہ 42 ڈگری سیلسیس تک چلا گیا تھا ۔ عموماً یہ ہندسہ مئی کے مہینے میں درج کیا جاتا تھا ۔
*موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید بارش کی دوہری مار جھیلتے کسان*
اورنگ آباد شہر کے اطراف میں زراعت کرنے والے کسان بھی اس سال ہوئی بارش کی نوعیت سے حیران ہیں ۔ شہر سے قریب پڑے گاؤں میں آم کے باغات میں کام کرنے والے ‘امبو’ کے مطابق اس سال آم کی پیداوار میں بھاری کمی آئی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ ہر سال آم کی پیداوار اتنی ہوتی تھی کہ وہ پیداوار کی بڑی مقدار کو بازار میں فروخت کردیا کرتے تھے ، لیکن اس سال پیداوار بے حد کم ہوئی ہے ۔ یہ حالات صرف امبو کے نہیں ہیں بلکہ ضلعے کے زیادہ تر کسان انہی حالات سے دوچار ہیں ۔
گلوبل وارمنگ اور کلائمیٹ چینج جیسے الفاظ سے ناواقف کسان ان حالات میں حکومت کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں جہاں سے انھیں اکثر مایوسی کے سوا کچھ اور نہیں ملتا ۔
مراٹھواڑہ کے دیگر حصوں کو بھی خشک علاقے کہا جاتا ہے اور یہاں پانی کا بحران کوئى نئی بات نہیں ہے۔ لیکن 2022 میں یہ علاقے زبردست بارش اور ژالہ باری سے متاثر رہے۔ موسموں میں آئى یہ غیر متوقع تبدیلیاں گلوبل وارمنگ اور کلائمیٹ چینج کی شدت کی علامت ہیں۔ سیلابی بارشوں نے جولائی کے مہینے میں پورے مہاراشٹر میں 8 لاکھ ہیکٹر رقبے پر پھیلی فصل کو پوری طرح تباہ کر دیا۔
خاص کر گیارہ اور بارہ جولائی 2022 کو ہوئی زبردست بارش نے مراٹھواڑہ کے کسانوں کی محنت پر پانی پھیر دیا۔
دوردراز کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے پر پتہ چلا کہ مکا ، کپاس ، تور کے علاوہ کیلے کے باغات بھی پوری طرح تباہ ہو گئے ۔
ریاستی محکمہ زراعت سے موصولہ اعدادوشمار کے مطابق مراٹھواڑہ کے آدھے سے زیادہ حصے میں فصلیں پوری طرح تباہ ہو گئی ہیں ۔ ان ضلعوں میں سب سے زیادہ نقصان ہنگولی اور ناندیڑ ضلعوں میں ہوا ہے ۔
مراٹھواڑہ کے علاوہ مہاراشٹر کے دوسرے حصے جیسے ودربھ کے چندرپور’ گڈچرولی ، بھنڈارا ، ناگپور ، وردھا، ایوت محل اور امراوتی میں بھی غیر موسمی بارش نے فصلوں کو زبردست نقصان پہنچایا ہے ۔ موسم کی مار جھیل رہے کسان اس طرح کے حالات سے بے حد پریشان ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اب تو موسم کا مزاج کچھ اس طرح ہوتا جارہا ہے کہ کسی بھی فصل کے کامیاب ہونے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ۔
فصلوں کے نقصان کے علاوہ غیر یقینی موسمی حالات کی مار جانوروں کی زندگی اور صحت پر بھی پڑرہی ہے ۔ جولائی کے مہینے میں صرف مراٹھواڑہ میں ہی 522 جانوروں کی موت کا اندراج ہوا ۔ اسکے علاوہ بجلی گرنے اور طوفانی بارش کے دوران پیش آئے حادثوں میں 40 افراد بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ مہاراشٹر کے محکمہ زراعت کے مطابق نقصان کے تخمینہ ابھی لگایا جا رہا ہے ۔
بھارتی محکمۂ موسمیات کے مطابق مراٹھواڑہ کے اورنگ آباد ضلعے میں اس سال اوسط کے مقابلے 1044 ملی میٹر زیادہ بارش ہوئی ہے ۔ وہیں پوری ریاست میں اس سال اوسط کے مقابلے %121 زیادہ بارش درج کی گئی ہے ۔
*ماحولیاتی تبدیلیوں کے تئیں حکومت کی عدم توجہی*
ریاستی حکومتوں نے گلوبل وارمنگ اور کلائمیٹ چینج سے ہونے والے زرعی نقصان کی بھرپائ کو ہی اپنی ذمے داری سمجھ لیا ہے ۔ مہاراشٹر سمیت زیادہ تر ریاستوں کے پاس اس مسٔلے سے سائنسی بنیادوں پر نمٹنے کا کوئی طویل مدتی منصوبہ نہیں ہے۔
ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے مقامی اثرات کا مطالعہ کرنے کے لئے ماہرین کے گروپ تشکیل دینے ہونگے جو عالمی سطح پر جاری کوششوں سے خود کو جوڑیں اور اس طرح کی قدرتی آفات سے ہونے والے خسارے کو کچھ کم کرسکیں۔
*تحریر کے مصنف نیوز ریڈر اور آذاد صحافی کے طور پر کام کرتے ہیں۔*