فساد کی آگ ہریانہ کے کئی اضلاع اور راجستھان تک پھیل گئی ،مہلوکین کی تعداد ہ ہوگئی ، ۲۳ زخمیوں میں ۱۰ر پولس اہلکار شامل، ۵۰ گاڑیاں نذر آتش
چنڈی گڑھ ، یکم اگست ۔ ہریانہ کے نوح ضلع میں گذشته روز رونما ہو نیوالی تشدد کی آگ دیگر اضلاع میں پھیل گئی ہے ۔ گڑگاؤں کے سیکٹر 57 میں فسادیوں نے انجمن مسجد کو آگ لگادی مسجد کے امام مولانا سعد سعید (22) کو بے رحمی سے پیٹا ، گولی ماری گئی جس میں وہ جاں بحق ہو گئے ،

خورشید نامی نوجوان آگ میں بری طرح جھلس گیا ، جسے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، اس کی حالت تشویشناک ہے انوح میں گذشته روز وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی ‘برج منڈل یا ترا میں موب لنچنگ کے ایک ملزم مونو ما یسر کی شرکت اور اشتعال انگیز نعرے بازی کے سبب بھر کی تشدد کی آگ میں اب تک 5 افراد کی جان چلی گئی ہے ۔
اس واقعہ کے بعد نوح کے کئی علاقوں میں حالات کشیدہ ہیں ۔ اے بی نیوز کی رپورٹ کے مطابق حالات کے پیش نظر گروگرام سمیت تشدد زدہ علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور انٹرنیٹ پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ تمام اسکولوں کو بند کرنے کا بھی حکم جاری کیا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق نوح اور گروگرام میں تشدد کے بعد پورے علاقے میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے ۔ سے دو افراد زخمی ہوئے اور ان میں سے ایک نےhttps://twitter.com/ZakirAliTyagi/status/1686388765856845824?t=EIONtoDXWASEB8D7HIlk2A&s
گروگرام کے تشدد کے واقعہ کے بارے میں ایک علاج کے دوران دم توڑ دیا ۔ متوفی کی شناخت بہار زخمی ہونے والے مزید دو افراد کی موت ہو گئی ہے۔
تشدد میں مارے گئے چوتھے شخص کی اہا کار بھی شامل ہیں۔ پولیس نے اس معاملے میں 11 پولیس افسر نے بتایا کہ ہجوم نے فائرنگ کی جس کی وجہ کے سیتا مری کے رہنے والے حافظ سعد کے طور پر مرنے والوں کی شناخت ہوم گارڈ نیرج اور گرسیوک شناخت ابھی تک نہیں ہو گی ہے۔ نوح میں تشدد کے ایف آئی آر درج کی ہیں اور 27 لوگوں کو حراست ہوئی ہے۔ نوح میں یاترا کے دوران ہوئے تشدد میں اور بھاس گاؤں کے رہنے والے شکتی کے طور پر کی دوران زخمی ہونے والے 23 افراد میں 10 پولیس میں لیا ہے۔ بشکریہ ممبئی اردو نیوز