احمد آباد:9/ ڈسمبر(ایجنسیز)گجرات میں مسلمانوں کی آبادی مجموعی آبادی کا 9 فیصد ہے۔ ریاست کے 19 اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کے ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن ان 19 اسمبلی حلقوں میں 17 حلقوں میں بی جے پی امیدوار بہت آسانی کے ساتھ کامیاب ہوئے۔ بی جے پی نے 182رکنی اسمبلی کے چناؤ میں ایک بھی مسلمان کو اپنا امیدوار نہیں بنایا تھا۔آخری بار بی جے پی نے ایک مسلمان کو امیدواری دی تھی وہ 1998 کا اسمبلی الیکشن تھا۔
مسلم اکثریت والی 19 سیٹوں میں دو سیٹوں جمال پور کھڈیا اور ودگام پر کانگریس کے امیدوار کامیاب ہوئے ان مسلم آبادی والے حلقوں میں نہ مجلس تحاد المسلمین کو کوئی کامیابی ملی نہ عام پارٹی کے امیدوار کے حصے میں کوئی سیٹ آئی۔نتائج کے تجزیہ سے کچھ اہم باتیں ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ بیشتر حلقوں میں کئی کئی مسلم امیدوار میدان میں تھے۔ان میں بیشتر آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں تھےمثال کے طور پرلمبایت اسمبلی سیٹ پر 44 امیدوار قسمت آزما رہے تھے جن میں 36 مسلم تھے۔ یہاں سے بی جے پی کی سنگیتا بین راجندر پاٹل 52 فیصد ووٹ لیکر آسانی سے جیت گئیں۔
محض20 فیصد ووٹوں کے ساتھ عا پ کا امیدوار دوسرے نمبر پر رہا۔اس بار صرف ایک مسلم اسمبلی میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا ہے۔وہ ہے کانگریس کا عمران کھیڈا والا۔2017 میں دو مسلمان وانکا نیر سے ایم اے پیر زادہ اور دریا پور سے غیاث الدین شیخ اسمبلی میں پہونچے تھے۔ اس بار دونوں ہار گئے۔گجرات میں مجموعی آبادی کا 9 فیصد ہونے کے باوجود مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی ہمیشہ بہت خراب رہی ہے۔مسلمانوں کی بھاری آبادی والی سیٹ گودھرا ہے جہاں سے بی جے پی امیدوارچندرا سنہ راول جی کامیاب ہوئے ہیں۔انہوں نے ہی بلقیس بانوں کے مجرموں کو ‘ سنسکاری برہمن ‘بتایا تھا۔وہ اس حلقے سے چھ بار ایم ایل اے رہ چکے ہیں۔مجلس اتحاد المسلمین نے مسلمانوں کے اثر والی 19 میں سے 13 سیٹوں پر امیدوار اتارے تھے لیکن کہیں بھی انکا اثر نظر نہیں آیا۔انکے امیدواروں کو جیت کے فرق سے بھی بہت کم ووٹ مل سکے۔ گجرات اسمبلی چناؤ میں ایم آئی ایم کے امیدوار وہ ووٹ کٹر نہیں بن سکے۔صرف ایک بھج کی سیٹ پر ایم آئی ایم کے امیدوار کو سب سے زیادہ 17.36 فیصد ووٹ ملے لیکن وہ بھی بی جے پی امیدوار کی جیت کے فرق سے بہت کم ہیں۔
نتائج کے مطابق بی جے پی کو ریاستی چناؤ میں زبردست کامیابی ملی ہے۔گزشتہ چناؤ میں اسے 99 سیٹیں ملی تھیں جو اس بار بڑھ کر 156 ہو گئیں۔ گجرات کو فرقہ وارانہ منافرت کی تجربہ گاہ کہا جاتا ہے۔ اس بار کے الیکشن میں بھی یہی بات ثابت ہوئی۔ وہاں قومی اہمیت کے حامل کسی ایشو نے ووٹر کو متاثر نہیں کیا۔ نہ مہنگائی، نہ بیروزگاری، نہ معاشی بد حالی نہ پیڑول ڈیزل کے بڑھتے دام۔ مسلمانوں کے تئیں نفرت کا سکہ اس بار بھی گجرات الیکشن میں خوب چلا۔